حقائق الفرقان (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 214 of 607

حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 214

مال مردم خوربیل پھرتے ہیں۔بتاؤ؟ کوئی مسلم ان کو چھیڑ سکتا ہے۔اگر اتفاقی بھی چھیڑے تو تم کیسے اس کے گرد ہوتے ہو۔تم مفتوح۔دبیل۔نرم دلوں کا تو حال یہ ہے۔اگر اﷲ تعالیٰ نے جو بادشاہوں کا بادشاہ۔حاکموں کا حاکم ہے ہی کہہ دیا کہ میرے رسول صالح کی سچائی کا یہ نشان ہے۔کہ اگر اس کی خلاف ورزی کرو گے اور اس اونٹنی کو جو اب خصوصیت رکھنے والی اونٹنی ہے۔ستاؤ گے تو ہلاک ہو گے۔عرب کے ملکوں میں دشمنوں پر رُعب ڈالنے اور اپنی شوکت کے اظہار کیلئے نہ صرف اونٹ چھوڑے جاتے تھے بلکہ گھوڑے اور دنبے بھی اور قوم کلیب کے جنگوں سے معلوم ہوتا ہے کہ کتوں کے بچوں کو بھی اسی طرح آزاد کرتے تھے۔میدانیؔ نے امثالؔ میں لکھا ہے کہ حیرۃ کے بادشاہ کسرٰی نے اپنی قوّت سلطنت اور بطش کے باعث عربوں میں بڑا رعب جمایا تھا اس کو مضرط الحجر کہتے تھے۔اس نے شدید قحط کے زمانہ میں ایک دنبہ کو خوب پالا اور پوسا پھر اس کے گلے میں چھُری اور چقماق ڈال دیا اور اُسے جنگل میں چھوڑ دیا اور کہا۔کون ہے جو اسے ذبح کر سکتا ہے؟ عربوں میں کوئی بھی اس سے تعرض نہیں کر سکتا تھا آخر بنو یشکرقوم تک پہنچا اور علیاء بن ارقم کی نظر پڑا۔تب وہ بول اٹھا۔میں اس دُنبہ کو کھالوں گا۔تب قوم کے لوگوں نے اُسے روکا اور ملامت کی۔لیکن علیا ء اپنے ارادہ پر قائم رہا۔تب انہوں نے اس بات کو اپنے سردار تک پہنچایا۔اس نے یہ فقرہ کہا جو اب کہاوت کے طور مشہور ہے اِنَّکَ لَاتَعْدِمُ الضَّاْنَ وَلٰکِنْ تَعْدِمُ النَّفْعَ۔لوگوں نے ملامت تو بہت کی مگر علیاء نہ ٹلا۔اور دُنبہ کو ذبح کر کے کھا گیا اور بادشاہ کے پاس چلا گیا اور کہا کہ میں نے ایک بدی کی ہے۔اور بہت بڑی بدی کی ہے لیکن آپ کا عفو اس سے بھی بڑھ کر ہے۔اور اپنا سارا ماجرا سنایا۔تب بادشاہ نے کہا۔اب میں تجھے قتل کردوں؟ تب علیاء نے وہ مشہور قصیدہ پڑھا جس کا ایک شعر ہم نقل کرتے ہیں ؎ وَ اِنَّ یَدَالْجَبَّارِ لَیْسَتْ بِصَعْقَۃٍ وَ لٰکِنْ سَمَائٌ تَمْطُرُ الْوَبْلَ وَ الدِّیژمَ (نورالدین ایڈیشن سوم صفحہ۱۶۳۔۱۶۴)