حقائق الفرقان (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 213 of 607

حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 213

: سوائے نبی کے کوئی ایسا نرم جواب نہیں دے سکتا۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۲۳؍ستمبر ۱۹۰۹ء) ۷۴۔ سورۃ اعراف میں نبوّت کی بحث ہے۔اور اس بات کے نظائر پیش کئے ہیں کہ راست بازوں کی مخالفت کا نتیجہ کیا ہوتا ہے۔عدن سے لیکر مغربی طرف عرب کے ثمود قوم رہتی تھی۔جس قدر لوگ انبیاء سے دور چلے جاتے ہیں۔ان میں اختلاف پڑھتا جاتا ہے اور جس قدر قریب ہوتے ہیں ان میں اتفاق ہوتا جاتا ہے مثلاً فلاسفر ان میں عجیب عجیب اختلاف ہوتے ہیں۔نبیوں میں یہ بات نہیں۔اسی لئے سب کی تعلیم اصولاً ایک ہی ہے۔اسی واسطے ۔ہر نبی کی تعلیم لکھی ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۲۳؍ستمبر ۱۹۰۹ء) : کوئی ایک اونٹنی لیکر فرما دیا۔یہ آیت ہے۔ہر ولی اﷲ ایک ناقہ ہے۔جب صالح کی اونٹنی تو کیا نبی کریمؐ کے پیارے ناقہ نہیں۔(تشحیذالاذہان جلد۸ نمبر۹ صفحہ ۴۵۴) قرآن میں تو کہیں نہیں لکھا کہ خاص اونٹنی اس وقت پیدا کر دی۔صرف اتنی بات قرآن میں ہے۔ ۔یہ خدا کی اونٹنی تمہارے لئے ایک نشان ہے اُسے خدا کی زمین میں چرنے چگنے دو اور دُکھ نہ دو ورنہ سخت عذاب میں گرفتار ہو جاؤ گے۔اس بات کے حل کرنے کیلئے خود تمہارے ملک کی رسوم اور عادات بڑی چابی ہیں۔اس ملک میں جہاں جہاں سکھ مالک و نمبردار ہیں۔وہاں کیا ہوتا ہے۔کون نہیں جانتا۔ایک بیل اگر کسی مسلمان کے ہاتھ سے مارا جاوے تو انسانی جسم کی اس ایک حیوان کے بدلہ میں کیا گت بنتی ہے؟ تمہارے بازاروں میں بیکار۔نکمّے