حقائق الفرقان (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 208 of 607

حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 208

اسی طرح قرآن شریف میں علم کے اور معنی ہیں۔ (فاطر:۲۹) اور عام طور پر علم موجب کِبر ہے۔اسی طرح ’’ تاویل‘‘ کے معنے لوگ ہیر پھیر کر اپنے مطلب کے مطابق بنالیتے کرتے ہیں مگر قرآن کریم میں انجام۔حقیقت۔اصلیت کے معنی ہیں۔چنانچہ سورۃ یوسف میں ہے۔(یوسف:۱۰۱) ایک اور جگہ فرمایا (آل عمران:۸) یعنی اس کی حقیقت کو۔پس یہاں معنی ہیں کہ لوگ چاہتے ہیں۔عذابوں کے نتیجے ظاہر ہوں۔مگر جس روز انجام ظاہر ہو گا۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۲۳؍ستمبر ۱۹۰۹ء) ۵۵۔ : چھ وقتوں میں ۱۲ گھنٹے کا دن مراد نہیں۔اس کی تفسیر ہمارے حضرت صاحب۱؎ نے خوب لکھی ہے۔ہر چیز کی تکمیل چھ مراتب کے طے کرنے کے بعد ہوتی ہے۔مثلاً انسان پہلے نطفہ پھر علقہ پھر مضغہ پھر لحماً پھر  (المومنون:۱۵) میں نے غور کر کے دیکھا ہے کہ انگریزوں کو شریعت سے تعلق نہ تھا مگر ایم اے تک چھ درجے تکمیل کیلئے رکھے ہیں۔زمین کو پہلے درست کرتے۔پانی دیتے۔بیج ڈالتے ہیں۔دو دن میں یہ کام ہوا ہے۔اور چار دن کے بعد بیج اُگتا ہے۔کل چھ دن ہوئے۔قرآن کریم میں یوم بہت معنوں میں آیا۔ایک ان بارہ گھنٹوں سے لے کر سال۔۱؎ حضرت مسیح موعود علیہ السلام۔(مرتب) ہزار سال