حقائق الفرقان (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 197 of 607

حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 197

جب انسان سُکھ میں اور عیش و عشرت اور ہر طرح کے آرام میں ہوتا ہے۔سب قوٰی اس میں موجود ہوتے ہیں۔کوئی مصبیت نہیں ہوتی۔اس وقت استطاعت اور مَقدرت ہوتی ہے جو خدا کے حکم کی نافرمانی کر کے حظِ نفس کو پورا کرے اور کچھ دیر کے لئے اپنے نفس کو آرام دبے لے۔پر اگر اس وقت خدا کے خوف سے بدی سے بچ جاوے اور اس کے احکام کو نگاہ میں رکھے تو اﷲ ایسے شخص کو وہ موت دیتا ہے جو مسلمان کی موت ہوتی ہے۔اگر وہ اس وقت مریگا جب کہ یعنی جب اس کی ترازو زور والی ہو گی تو وہ بامراد ہو گا اور مسلمان کی موت مریگا۔ورنہ ہم نے دیکھا ہے کہ مرتے وقت عورتیں پوچھتی ہی رہتی ہیں کہ مَیں کون ہوں؟ دوسری کہتی ہے۔دس کھاں میں کون ہاں؟ تیسری پوچھتی ہے دسّوکھاں جی میں کون ہاں؟ اور اسی میں ان کی جان نکل جاتی ہے۔(الحکم ۳۱؍اگست ۱۹۰۷ء صفحہ۱۱) ۱۰۔ : آیات سے مراد ہے اﷲ کے پاک انسان۔اﷲ کا پاک کلام۔ساری دنیا اور نشاناتِ نبوّت۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۲۳؍ستمبر ۱۹۰۹ء) ۱۲،۱۳۔  بنو عامر کعبہ کا طواف ننگے ہو کر کرتے تھے یہ سمجھ کر کہ جن کپڑوں میں ہم نے گناہ کئے ہیں ان کے ساتھ کیسے طواف کریں۔اس لئے ان دو رکوعوں میں لباس کے متعلق ذکر آئے گا۔