حقائق الفرقان (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 191 of 607

حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 191

کہہ تمہارے پاس کوئی اس بارہ میں علم ہے تو لاؤ ہمیں نکال کر دکھاؤ۔تم ظنّ کے نیچے لگے ہو اور اٹکلیں لگا رہے ہو۔اے نبی کہہ ( جب تمہارے پاس اس اپنے دعوٰی کے کہ اﷲ کی مرضی سے شرک ہوتا ہے، کوئی دلیل نہیں اور تم جھوٹے نکلے) تو پورا غلبہ اﷲ کو حاصل ہے۔اگر اسکی مشیت ہوتی تو تمہیں ہدایت دیتا ( نہ یہ کہ سرک کرواتا جیسا تمہار گمان ہے)  (تصدیق براہین احمدیہ صفحہ ۱۳۷) ا س ا عتراض کے مفصّلہ ذیل جواب دیئے ہیں۔(الانعام:۱۵۰) ۱۔ کہا ۲۔(الانعام:۱۴۹) ۳۔(الانعام:۱۴۹) ۴۔(الانعام:۱۵۰) ۵۔(الانعام:۱۵۱) ۶۔ (الانعام:۱۵۱) ۷۔(الانعام:۱۵۱) : یعنی کبھی اﷲ تعالیٰ نے اپنی طاقت سے تمہیں کان سے پکڑ کرنیکی سے روکا ہے یا بدی کی طرف چلایا ہے ؟ اگر ایسی بات ہے تو ثبوت پیش کرو۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۲۳؍ستمبر ۱۹۰۹ء) : جبری مذہب آجکل بڑھ گیا ہے۔مگر تعجّب ہے۔انکی حُجّت بازی دینی کاموں میں ہوتی ہے۔مگر دنیا کے کاموں میں ہوشیار۔دلائل دئے ہیں۔۱۔۔۲۔۔۳۔۔اپنے بروں کو بھی لپیٹ لیا۔۴۔۔۵۔۔یعنی تم نے سب نبیوں کو جھٹلا دیا۔۶۔۔ایسے لوگوں کو سزا ملی۔۷۔ اپنا علمدرآمد دیکھو کیا وہ جبراً تمہیں شراب کانوں یا چوریوں کی طرف لے جاتا ہے؟ اور نیکیوں سے روکتا ہے؟ علم کی بات کرو۔ اس دعوٰی کی بنیاد ظنیّات پر ہے۔: اٹکل پچّو باتیں کرتے ہو۔(تشحیذالاذہان جلد۸ نمبر۹ صفحہ ستمبر ۱۹۱۳ء ۴۵۳)