حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 17
ء علماء اور حکماء کی باتیں بھی اسی لئے مانی جاتی ہیں کہ ان میں علم و حکمت ہے۔(ضمیمہ اخبار بدرؔ قادیان ۲۹؍جولائی ۱۹۰۹ء) ۲۸۔ : اﷲ کسی کو پکڑ پکڑ کر تو نہیں بتاتا۔مگر انسان کو ایک طاقت و مقدرت عطاء کر دی۔اگر تم کسی اور کی طرف جُھکو گے تو تمہاری جان و مال کو نقصان پہنچے گا۔(ضمیمہ اخبار بدرؔ قادیان ۲۹؍جولائی ۱۹۰۹ء) : ۱۔طمع ۲۔خواہش جماع ۳۔غضب ۴۔بزدلی و جُبن ۵۔حرص (تشحیذالاذہان ستمبر ۱۹۱۳ء جلد ۸ نمبر۹ صفحہ ۴۴۷) ۲۹۔ : دیکھو مسجد میں نماز پڑھنے کیلئے معمولی لباس کافی ہے مگر دیکھ لو۔جب کسی برات میں جاتے ہیں تو کیسا قیمتی لباس پہن کر جاتے ہیں۔ایک ہمارا دوست تھا۔اس نے میراثیوں کو آٹھ ہزار روپیہ دے دیا اسی طرح مرنا بھی دیکھ لو۔معمولی کفن ہے۔شادی میں بھی یہی حال ہے۔لوگ اپنے رسوم کے ماتحت خواہ مخواہ اپنے اوپر بوجھ ڈالے ہوئے ہیں۔اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے کہ لوگوں کی بتائی ہوئی راہ میں آرام و تخفیف نہیں مگر ہماری بتائی ہوئی راہ میں یہ بات ہے کہ کیونکر لوگوں کو فطرت کا علم نہیں۔عیسائیوں نے اپنے خود ساختہ قواعد سے مجبور ہو کر کہہ دیا کہ شریعت صرف اس لئے آئی تا انسان کو (گنہگار) ثابت کرے۔ہمارے زمانہ کے نوجوان سو سائٹی سوسائٹی پکارتے ہیں ان کو معلوم نہیں۔انگریز خود اپنی سو سائٹی کی قیود سے کس قدر تنگ ہیں۔ایک مولوی نے مجھ سے ذکر کیا۔مجھے ایک جنٹلمین نے انگریزی سوسائٹی میں شامل ہونے کی ترغیب دی۔ایک برات کے موقعہ پر میرے ستّر روپے ایک سُوٹ پر خرچ کرا کے مجھے ساتھ لے گیا۔وہاں جا کر معلوم ہوا۔کہ کھانے کا سُوٹ۔سونے کا سُوٹ۔فُٹبال کا سُوٹ۔سَیر کا سُوٹ۔ملاقات کا سُوٹ(