حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 185
برہمو سلسلہ رسالت کے منکر ہیں۔وہ تمام انبیاء کو مفتری قرار دیتے ہیں اور ان کا عقیدہ ہے کہ انبیاء نے یہ کہنے میں کہ ہمیں خدا سے وحی ہوی ہے دروغِ مصلحت آمیز سے کام لیا ہے۔پھر وہ ملائکہ کے منکر ہیں۔نہایت لطیف پیرائے میں اس اعتقاد کو انہوں نے شرکِ عظیم قرار دیا ہے۔گویا تمام قسم کی نیکی کی تحریکوں کے مخالف ہیں۔: دنیا نے ان کو بڑا دھوکہ دیا ہے۔بچّہ پیدا ہوتے ہی کھانا طلب کرتا ہے۔پھر اس میں غضب پیدا ہوتا ہے پھر حرص۔چنانچہ ایک پستان چُوستا دوسرے پر ہاتھ رکھتا ہے اور اپنے دوسرے بھائی سے بَیر پیدا کر لیتا ہے۔پھر غضب کے ساتھ ساتھ حُبّ بھی بڑھتی جاتی ہے یہ سب قوّتیں بہیمی کے کرشمے ہیں۔پھر شہوت میں ترقی ہوتی ہے۔جس کا نتیجہ ہم نوجوانوں کے ہر روز آنے والے خطوط میں پڑھ رہے ہیں۔غرض کھاناؔ ،پیناؔ ،بُغضؔ ، عداوتؔ، حبّؔ، شہوتؔ ، حرصؔ تو اپنے قبضہ جما لیتے ہیں اور انبیاء کی تعلیم اور عقل بعد میں آتی ہے۔پھر یورپ ، امریکہ کے لئے تو اور بھی مشکل ہے۔وہ جب ہوس سنبھالتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ کسی انسان کو خدا بنایا گیا ہے تو وہ اس لغو عقیدے کو دیکھ کر ان میں ہوش والے مذہب ہی کو ایک لغو اور جھوٹی چیز خیال کرتے ہیں۔کیونکہ ان کے سامنے توحید کی پاک تعلیم نہیں آئی۔پھر موجودہ ساز و سامانِ رہائش کچھ کم غافل کرنیوالا نہیں۔: جب تک خدا کی طرف سے غافلوں کو خبردار کرنیوالا آنہ جائے۔عذاب نہیں آتا۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان۲۷؍ستمبر ۱۹۰۹ء) ۱۳۴،۱۳۵۔ : چاہے تو کسی قوم کو تباہ کر دے۔: ایک قوم چلی جاتی ہے دوسری قوم اس کی جا نشین ہوتی ہے۔ان کا بڑا خلیفہ کہلاتا ہے۔آدمؑ کی خلافت کے مسئلے پر اس آیت سے روشنی پڑتی ہے۔جس پر اﷲ تعالیٰ اپنے اوامر و نواہی