حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 181
: مثلاً چوہڑے کہتے ہیں کہ خدا کی ماری حرام اور تمہاری ذبح کی ہوئی حلال ؟ حالانکہ یہ انکی غلطی ہے۔ایک محبوب کے نام پر کُشتہ ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۲۳؍ستمبر ۱۹۰۹ء) ۱۲۳۔ : اُخْرَجَکُمْ مِنْ بُطُوْنِ اُمَّھَاتِکُمْ لَاتَعْلَمُوْنَ شَیْئًا(نحل:۷۹) میں اس کی تفسیر ہے۔جب تک انسان خدا کی فرماں برداری کی تہ کو نہیں پہنچتا۔مُردار ہی ہوتا ہے۔لیکن جوں جوں خد ا کی عظمت و جبروت کو سمجھتا ہے۔زندہ ہوتا جاتا ہے۔: عقل وسمجھ وسچائی و کتابِ الہٰی کا علم۔لوگوں میں بھی اس کا ذکر آتا ہے۔ایسے بھی لوگ ہیں جو افرادِ قوم۔ملک کی بہتری تو کجا اپنی بہتری کو بھی نہیں سمجھتے۔جانوروں کی طرح زندگی بسر کرتے ہیں۔: ہر روز سوچو کہ بہ نسبت کل کے تم نے خدا سے نزدیک ہونے یا مخلوق پر شفقت کرنے میں کیا ترقی کی۔تا سمجھ آئے کہ ظلمات سے نور میں یعنی بے تمیزی سے تمیز میں کہاں تک پہنچے۔رسول کریمؐ نے فرمایا ہے مَنِ اسْتَوٰہُ یَوْمَاہُ فَھُوَمَغْبُوْنٌ۔پس تم ضرور اپنے نفس کا محاسبہ کرتے رہو اور ایک پہچان ’’ نبوّت‘‘ کی بتلائی ہے۔وہ یہ کہ اکابر جو ہوتے ہیں وہ انبیاء سے قطع تعلق کرنے والے ہوتے ہیں۔تم خدا کی بڑائی کیلئے وعظ کرو۔پھر تمہارے بھی دشمن ہو جاویں گے۔میرے سامنے کسی نے سوال کیا۔کیشب۔دیانند۔سرسیّد۔مرزا صاحب چاروں اصلاح کے مدعی ہیں ان میں کیا فرق ہے۔میں نے کہا یہی کہ اکابر صرف مرزا صاحب کے دشمن ہیں! (ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۲۳؍ستمبر ۱۹۰۹ء)