حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 175
… کسی معبود کو بُرا نہ کہو ورنہ ہمارے مولیٰ کو بُرا کہیں گے۔اسی طرح خوبصورت خوبصورت کر کے دکھلایا ہے۔ہم نے ہر قوم کیلئے وہ کام جو ان کو کرنا چاہیئے یعنی جو عمل ہم ان سے کرانا چاہتے ہیں۔اس کی خوبصورتی ہم نے اسی طرح بیان کی۔دیکھو اﷲ کا بیٹا نہ بنانے اور شرک کی بُرائی کے لئے کیسے معقول دلائل دیئے ہیں۔(ضمیمہ اخبار بدرؔ قادیان ۳؍ستمبر ۱۹۰۹ء) اسلام نے کوئی عمدہ تعلیم اور پسندیدہ بات نہیں جس کا حکم اور کوئی بُری اور ناپسندہ بات نہیں۔جس کی ممانعت نہ کی ہو… اخلاق وہ کِسی نبیؑ پر کوئی اعتراض نہیں۔سب کا ماننا۔سب کا اداب اسلام میں ضرور ہوا …سے بڑھ کر کون سا حکم ہے جو اخلاق کا مصدر بن سکے۔تعجّب آتا ہے۔الزامی طور پر بھی قرآن عیوب کا اشارہ نہیں کرتا۔(فصل الخطاب جلد اوّل ایڈیشن دوم صفحہ۷۷) پنڈت سوامی دیانند نے اپنی تحریروں میں دعوٰی کیا ہے کہ دوسرے مذاہب کو بُرا کہا ان کا شیوہ نہیں اور بد تہذیب شخص کو وہ بہت بُرا سمجھتے ہیں… اس راہ کے آداب و اخلاق کے سکھانے میں بھی قرآن کریم کو ہی یہ فخر حاصل ہے کہ اس مبارک کتاب نے تعلیم دی ہے۔کہ الباطل سے جنگ کرنے کے وقت اس کے قابلِ اکرام معبودوں اور معظم مقصودوں کی نسبت کس طریق پر کلام کرنا چاہیئے۔جیسے فرمایا (ترجمہ) تم لوگوں کے معبودوں کو گالی نہ دو۔وہ اس کے عوض میں جہالت اور زیادتی سے اﷲ کو گالی دیں گے۔اس مبارک تعلیم سے وید اور دوسری تمام کتابیں محض برہنہ ہیں۔اسکی اصل وجہ یہ ہے کہ ان کتابوں میں کوئی ذاتی خوبی اور جوہر نہیں۔یہ کتابیں اپنی جگہ بے زبان ہیں۔کوئی دعوٰی اپنی دلیل کے ساتھ ان میں نہیں۔ہاں ان کے وکیلوں اور حامیوں کے منہ میں لاریب سیاہ زہر دار کو برہ کی دو شاخی زبانیں ہیں۔یہ لوگ پادری اور آریہ اپنی کامیابی اور ظفر اسی میں سمجھتے ہیں کہ دوسروں کی عیب چینی کریں۔اپنی کتابوں اور عقیدوں کے معارف و اسرار کے اظہار سے انہیں کوئی غرض نہیں۔اگر مذاہب اور ملل اس پر اتفاق کر لیں کہ تمام حلمیانِ دین اپنے مذہب و کتاب کی خوبیوں کے بیان کرنے پر اکتفاء کریں اور اس سے تجاوز نہیں کریں گے تو یقینًا اس میدان میں گوئے سبقت قرآن کریم کے ہاتھ میں ہے۔(نور الدّین ایڈیشن سوم صفحہ نو۔۵۶) قرآن کریم نے تمام مذاہب کے ان معباودوں کی دشنام دہی سے جن کو بُت پرست پکارتے ہیں حکماًقطعی ممانعت کر دی ہے جہاں فرمایا ہے ط