حقائق الفرقان (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 174 of 607

حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 174

ہو کر دُکھ پاؤ گے۔: تم جان بوجھ کر اندھے بنو گے۔تو میں تمہارا لاٹھی پکڑنے والا نہیں کہ ذمّہ دار ہوں۔(ضمیمہ اخبار بدرؔ قادیان ۳؍ستمبر ۱۹۰۹ء) ۱۰۷۔  : یہ تمام وحیوں کا خلاصہ ہے کہ وہ معبود ہے جس کے فرمان پر عمل کیا جائے۔ایک طرف رسم عادات۔احباب بلاتے ہیں۔دوسری طرف اﷲ کا حکم۔اسی وقت معلوم ہوتا ہے کہ بندہ اﷲ کافرماں بردار ہے یا نفس کا اور احباب کا۔: کس دل سے مانا ہے۔یروشلم کے محاصرہ میں پادریوں نے کہا۔تمہارا خلیفہ آوے تو اُسے ہم دخل دیدیں۔حضرت عمرؓ اسی سادگی میں روانہ ہوئے۔غلام کے ساتھ باری باری اونٹ پر چڑھتے آتے تھے۔ابوعبیدہؓ نے عرض کیا آپ کپڑے بدل لیں، گھوڑے پر سوار ہوں۔آپ نے یہ عرض مان لی مگر تھوڑی دور جا کر گھوڑے سے اُتر بیٹھے۔کہا میرا وہی لباس اور اونٹ لاؤ۔آپ جب گئے تو بِطریق وغیرہ نے رُعب میں آ کر چابیاں پھینک دیں۔کہا۔اس سپہ سالار کا مقابلہ ہم نہیں کر سکتے۔پس میں کس طرح لنَّاسُ بالِلّبَاسِکہنے والوں کا قائل ہو جاؤں۔وجہ کیا تھی۔تُو اﷲ کا فرماں بردار بن۔سب مخلوق تیری فرماں بردار ہو جاوے گی۔(ضمیمہ اخبار بدرؔ قادیان ۳؍ستمبر ۱۹۰۹ء) ۱۰۹۔ اب ایک اخلاقی تعلیم پیش کرتا ہے کہ حق بات کہو۔دین کی تبلیغ کرو۔مگر کسی کے بزرگ کو گالی نہ دو نہ رام چندر کو۔نہ کرشن کو۔نہ بُدھ کو۔اور نہ کسی اور کو۔