حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 173
کل چیزوں کو جاننے والا ہے۔یہی تمہارا رب ہے۔اس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ کل اشیاء کا خالق ہے اور وہ سب کا کارساز ہے… گویا قرآن کریم کہتا ہے کہ مسیح ابن اﷲ کن معنوں پر ہیں۔آیا عرفی اور حقیقی معنوں پر مسیح ولد اﷲ یا کسی اور معنوں پر۔اگر عرفی اور حقیقی معنوں میں ہیں۔یہ تو صحیح نہیں کیونکہ اس صورت میں سیّدہ مریم علیھاالسلام کو خدا کی جورُو اور اس کا ساتھی ماننا ضروری اور لازمی امر ہے۔اور تمام عیسائی اور سارے عقلاء سیّدہ صدیقہ مریم ؑ کا اﷲ تعالیٰ کی صاحبہ ہونا اعتقاد نہیں رکھتے۔اگر مجازی معنی ولد اﷲ اور اب اﷲ کے لیتے ہو تو مجازی معنی نہایت وسیع ہیں۔ولد اﷲ کے معنی خدا سے مجسّم خدا کے ساتھ ذاتاً متحد ہستی تجویز کرنا ہرگز ہرگز صحیح نہیں کیونکہ اگر یہ معنے لو گے اور مسیح کو اﷲ اور اﷲ کا بیٹا کہو گے تو ضرور ہو گا کہ مسیح ذات و صفات میں خدا ہو۔خدا کے برابر اور صفتِ معبودیت اور صفتِ خلق اور علم وغیرہ میں جو انسانی جسم کے لحاظ سے نہیں خدا کے سے صفات رکھتا ہو۔مگر ظاہر ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام میں یہ صفاتِ کاملہ خدا کی طرح موجود نہیں تھیں۔غور کرو۔(ابطال الوہیتِ مسیح صفحہ۳) ۱۰۴۔ : اب ردِّ الوہیت کی ایک اور دلیل فرماتا ہے کہ مسیح کو تو آنکھ نے احاطہ کرلیا۔حالانکہ اﷲ کا احاطہ نہیں ہوتا۔: یہ کا ثبوت ہے۔: یہ کا ثبوت ہے۔(ضمیمہ اخبار بدرؔ قادیان ۳؍ستمبر ۱۹۰۹ء) ۱۰۵۔ : انسان کی فہم و فراست کا سب سامان موجود ہے۔: کوئی کہے کہ ہمیں نفع کی ضرورت نہیں۔فرمایا۔نفع نہ اٹھاؤ