حقائق الفرقان (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 169 of 607

حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 169

اپنے گھروں میں سے نکال کر باہر جنگلوں میں اور زمین میں پھینک آتے ہیں۔وہاں ان کو اندھیرے اور گرمی میں ایک کیڑ الگ جاتا ہے اور دانے کو مٹی کر دیتا ہے اور پھر وہ نشو و نما پاتا۔پھیلتا پھولتا ہے اور کس طرح ایک ایک دانہ کا ہزار در ہزار بن جاتا ہے۔اسی طرح ایک گٹک۱؎ کیسی ردّی اور ناکارہ چیز جانی گئی ہے۔لوگ آم کا رس چُوس لیتے ہیں۔گٹھلی پھینک دیتے ہیں۔عام طور سے غور کر کے دیکھ لو کہ گٹھلی کو ایک ردّی اور بے فائدہ چیز جانا گیا ہے۔مختلف پھلوں میں جو چیز کھانے کے قابل ہوتی ہے وہ کھائی جاتی ہے اور گٹھلی پھینک دی جاتی ہے۔اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں  ہوں۔اُس چیز کو جسے تم لوگ ایک ردّی چیز سم کر پھینک دیتے ہو اس سے کیسے کیسے درخت پیدا کرتا ہوں۔کہ انسان۔حیوان۔چرند۔پرند سب اس سے مستفید ہوتے ہیں ان کے سائے میں آرام پاتے ہیں۔ان کے پھلوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔میوے۔شربت۔غذائیں۔دوائیں اور مقوّی ۱؎ گُٹھلی۔مرتّب اشیاء خوردنی اُن سے مہیّا ہوتی ہیں۔اُن کے پتّوں اور ان کی لکڑی سے بھی فائدہ اٹھاتے ہو گٹھلی کیسی ایک حقیر اور ذلیل چیز ہوتی ہے۔مگر جب وہ خدا کے تصرّف میں آ کر خدا کی ربوبیت کے نیچے آ جاتی ہے تو اس سے کیا کا کیا بن جاتا ہے۔(بدر ۶؍جون ۱۹۰۸ء) ۹۷۔ : اب یہ چوتھی مثال دیتا ہے کہ میں صبح کے وقت رات کو پھاڑ کردن دکھانے والا ہوں۔: رات اندھیری ہے۔قیدی بادشاہ کا ایک رنگ ہوتا ہے۔خوبصورت بدصورت۔بیمار۔تندرست۔سب یکساں ہو جاتے ہیں بلکہ بعض وقت بادشاہ خواب دیکھتا ہے۔میں قید ہو گیا ہوں اور قیدی خواب دیکھتا ہے۔میں بادشاہ ہو گیا۔نیند کے بھی عجائبات بے شمار ہیں۔ایک دفعہ ایک شخص نے مجھ سے پوچھا کہ خواب کے عجائبات کے متعلق حکماء کی کیا رائے ہے۔میںنے کہا۔ہم کتاب کیوں دیکھیں۔جب کہ ہم بھی سب کچھ دیکھتے ہیں۔اس نظارہ میں حکماء کی تخصیص نہیں۔اب اس