حقائق الفرقان (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 15 of 607

حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 15

   :وہ بی بی جو کسی دوسرے کی بیوی ہو۔گویا وہ ایسی ہے جیسے کوئی قلعہ میں ہوتا ہے۔:جنگی قیدیوں کا تعلق اپنے ملک سے قطع ہو جاتا ہے۔وہ جنگ ایسا ہی قطع تعلق کرتی ہے۔جیسے کہ طلاق۔پس اس لئے یہ جائز ہیں۔:صرف مَستی اتارنے کیلئے نہ ہوں۔:ہندوستان میں لاکھوں کے مہر باندھے جاتے ہیں۔میرا بھی ایک نکاح ہوا جب مہر حَد سے زیادہ بندھنے لگا۔مَیں بول پڑا۔عورتوں میں شور مچ گیا۔استاد بھی ناراض ہو گئے کہ دولہا بولتا ہے مگر ہم نے ۵۰۰ سے زیادہ منظور نہ کیا۔ کے لُغوی معنی ہیں۔جُھکنا۔اسی لفظ سے گناہ نکلا ہے۔جؔ مبدل بہ گؔ اور حؔ ہ ؔ کا۔ہمارے ملک میں فرق نہیں۔میں نے اکثر پادریوں سے کہا۔کسی نبی کیلئے جناحؔ کا لفظ نکال دو۔وہ نہیں نکال سکے۔عربی میں خطاء۔ذنب۔عصیان۔ایسے اکیّس لفظ ہیں جن کے معنے بالکل الگ الگ ہیں۔(ضمیمہ اخبار بدرؔ قادیان ۲۹؍ جولائی ۱۹۰۹ء) نکاح کی نسبت اﷲ کریم فرماتا ہے کہ اس سے غرض صرف مَستی کا مٹانا ہی نہ ہو بلکہ  کو مدّ نظر رکھے اور ہر ایک بات میں اس خدا کے آگے جس کے ہاتھ میں مال جان۔اخلاق و عادات اور ہر ایک طرح کا آرام ہے بہت بہت استغفار کرے اور بے پرواہی سے کام نہ لے خواہ وہ انتخاب لڑکوں کا ہو یا لڑکیوں کا کیونکہ بعد میںبڑے بڑے ابتلاؤں کا سامنا ہوا کرتا ہے۔(الحکم ۳۰؍ستمبر ۱۹۰۷ء صفحہ ۵) ۲۶۔