حقائق الفرقان (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 166 of 607

حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 166

(النساء۱۵۱۔۱۵۲) (ضمیمہ اخبار بدرؔ قادیان ۳؍ستمبر ۱۹۰۹ء) انسان جب اﷲ تعالیٰ پر ایمان لاتا ہے تو آخرت پر ایمان لے آتا ہے اور جزا و سزا کے اعتقاد کے بعد ضرور ہے کہ قرآن اور رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم پر ایمان لائے ( جس کے ساتھ ملائکہ و کتب کا ایمان بھی آ گیا ) اور پھر مومن۔نماز کا پابند ہو جاتا ہے۔(بدر ۳۱؍مارچ ۱۹۱۰ء صفحہ۴) فرماتا ہے جو لوگ کسی قسم کے ایمان کا دعوٰی کرتے ہیں۔خواہ دہریہ ہی ہوں۔غرض پابند ہوں کسی چیز کے۔کسی اصل کے۔پھر وہ خواہ یہودی ہوں یا عیسائی ہوں یا صابی۔جو کوئی اﷲ پر اور یومِ آخرت پر ایمان لاتا ہے۔ان دو باتوں کا ذکر اس لئے کیا کہ ایمان کی جڑھ اﷲ پر ایمان ہے۔اور ایمان کا منتھیٰ آخرت پر ایمان۔اور جو آخرت پر ایمان لاتا ہے۔اس کا نشان بھی بتا دیتا ہے ( ) وہ ایک تو تمام قرآن مجید پر ایمان لاتا ہے۔دوم اپنی صلوٰۃ کی محافظت کرتا ہے۔آج ہی ایک نوجوان سے میں نے پوچھا۔نماز پڑھتے ہو؟ اس نے کہا صبح کی نماز تو معاف کرو ( بھلا میرا باوامعاف کرنے والا ہے) باقی پڑھتا ہوں۔یہ مومن کا طریق نہیں ہے۔ایک مقام پر فرمایا۔(البقرۃ:۸۶) (الفضل ۵؍مارچ ۱۹۱۳ء صفحہ15