حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 165
: احمدی قوم کو مخاطب فرما کر حضرت مولانا۱؎ نے قرآن مجید اور اس کی تفاسیر اور اس کے پڑھنے کے متعلق تمام سہولتوں کا ذکر فرمایا اور بتایا کہ اس سے پہلے زمانے کے لوگں کیلئے یہ اسباب نہ تھے۔پھر آپ نے (القمر:۱۸) کی تفسیر میں فرمایا کہ اگر کوئی شخص اپنے طور پر تحقیقِ حق کے لئے بیٹھتا۔تو اس کیلئے ضروری تھا۔تمام مذاہب عالم کی کتابوں کو اوّل سے آخر تک مطالعہ کرتا۔مطالعہ کرنے کیلئے ان کی زبان کا صحیح علم حاصل کرتا۔پھر انتخاب کرنے کے بعد ( جو کام ایک انجمن سے ہو سکتا ہے) کچھ صداقتیں اکٹھی کرتا۔پھر بھی ان کے فیصلہ کرنے میں عاجز تھا لیکن قرآن مجید نے دُنیا کے مذاہب کی تمام صداقتوں کو نہ صرف جمع کیا بلکہ ان دعاوی کے دلائل بھی دیئے ہیں جو صرف اسی کتاب کا خاصّہ ہے۔دیکھئے اس پہلو سے قرآن کریم حصولِ صداقت و حق کے لئے کس قدر آسان ہے۔(ضمیمہ اخبار بدرؔ قادیان ۳؍ستمبر ۱۹۰۹ء) ۹۳۔ ۱؎ حضرت خلیفۃ المسیح لاوّل۔مرتّب : یہ آیت ان لوگوں کے لئے جو صرف ایمان باﷲ و ایمان بالاٰخرۃ کو ہی ذریعہ ٔ نجات ٹھہراتے ہیں۔ایک حجت قوی ہے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو آخرت پر ایمان لاتے ہیں ان کے ایمان کا نشان یہ ہے کہ وہ قرآن کی بات پر بھی ایمان لاتے ہیں۔اور پھر نماز کی پابندی کرتے ہیں اور نماز ہی ایسی چیز ہے جو مسلمانوں کو دوسرے لوگوں سے ممتاز کرتی ہے۔بعض لوگ (المائدۃ:۷۰) آیت کو قرآن مجید سے پیش کیا کرتے ہیں لیکن وہ اس آیت کو نہیں پڑھتے۔ایسوں کیلئے چھٹے پارہ کے پہلے رکوع میں خدا نے فرمایا ہے: