حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 163
میں نے اپنا منہ کیا اس کی طرف جس نے بنائے آسمان اور زمین ایک طرف کا ہو کر اور مَیں نہیں شرک کرنے والا۔اس آیت کا افتتاح (نماز۔ناقل) میں پڑھنا خوب آشکار کرتا ہے کہ اہلِ اسلام کا باطنی رُخ اور قلبی توجّہ کدھر ہے۔کعبہ حقیقی اور قبلہ تحقیقی انہوں نے کس چیز کو ٹھہرا رکھا ہے۔(فصل الخطاب جلد دوم (ایڈیشن دوم) صفحہ۱۳۰) اگر قربانی کرتے ہو تو ابراہیمی قربانی کرو۔زبان سے کہتے ہو تو رُوح بھی اس کے ساتھ متفق ہو۔(الانعام:۱۶۳) (الحکم ۱۷؍مارچ ۱۹۰۳ء صفحہ۴) ۸۳۔ : اس کے معنے صحابہؓ نے نبی کریمؐ سے پوچھے ہیں کہ اَیُّنَالَمْ یَظْلمْ یَارَسُوْلَ اﷲِ۔آپؐ نے فرمایا کہ ظلم سے مراد شرک ہے۔(ضمیمہ اخبار بدرؔ قادیان ۳؍ستمبر ۱۹۰۹ء) ۸۴۔ : یہ بات خوب یاد رکھو کہ کبھی اپنی طرف سے مباحثہ کی ابتدا نہ کرو اور اپنے علم پر مغرور نہ ہو جاؤ بلکہ جب چاروں طرف سے بات گلے پڑ جاوے تو اس وقت دُعا کرے کہ میرا علم۔میری قدرت۔میری عقل ناقص ہے۔تو ہی اپنے فضل سے میرا مُعین و ناصر ہو۔میں پچاس سال سے تجربہ کر رہا ہوں۔اسی طرز میں ہمیشہ کامیاب ہوا ہوں۔ میں بتایا کہ وہ کی دلیل خدا کی طرف سے دی گئی ہے۔