حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 162
: انجام یہ ہوا کہ ہوا یقین کرنے والوں میں سے۔ایک دفعہ حضرت صاحب سے مَیں نے پوچھا۔یقین کی کوئی انتہاء بھی ہے۔فرمایا۔جب میں بچّہ تھا تب بھی خدا پر میرا ایمان تھا۔جب جوان تھا۔تب اور ایمان بڑھا۔جب کچھ پڑھا۔تب اور ایمان بڑھا۔پھر جب الہام ہوا پھر اور ایمان بڑھا۔پھر الہاموں کو پورا ہوتے پایا۔پھر اَور ایمان بڑھا۔پس یقین کی کوئی حد نہیں اور مراتبِ یقین کی کوئی حد نہیں۔(ضمیمہ اخبار بدرؔ قادیان ۳؍ستمبر ۱۹۰۹ء) ۷۷ تا ۷۹۔ : مرکری۔اس کی بہت پرستش ہوتی ہے۔ہندو کام دیوتا اسی کو کہتے ہیں۔: یہ اشارہ بطور تحقیر کے ہے۔:اگر مجھے ہدایت نہ کی ہوتی۔معلوم ہوا کہ آپ اس سے پہلے ہدایت یاب تھے۔یہ نہیں کہ اس وقت بھول سے تارے چاند کو رب کہہ رہے تھے۔: جب سورج بُرج حمل میں آتا ہے۔ت مجوسی۔آتشی شیشے۔کے آگے سیاہ کپڑا رکھ دیتے اور چندن کی لکڑیوں کو آگ لگاتے۔پھر وہ آگ برس تک محفوظ رکھتے اور موم بتیاں شام کے وقت اس سے جلاتے اور کہتے۔اے سورج تو غرب ہو چلا۔پر یہ تیری ہی آتش کا فیض ہے کہ بتّیاں روشن ہوئیں۔یہ دراصل چوٹ کی ہے۔(ضمیمہ اخبار بدرؔ قادیان ۳؍ستمبر ۱۹۰۹ء)