حقائق الفرقان (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 14 of 607

حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 14

    حرام کی گئیں تم پر تمہاری مائیں اور بیٹیاں اور بہنیں اور پھوپھیاں اور خالائیں اور بھائی کی بیٹیاں اور وہ تمہاری مائیں جنہوں نے تمہیں دودھ پلایا۔اور دودھ کی بہنیں۔اور تمہاری ساسیں اور وہ لڑکیاں جو تمہاری گودوں میں ہیں ان عورتوں سے جن سے تم نے جماع کیا اور اگر تم نے اُن سے جماع نہیں کیا تو تم پر ان کے نکاح میں کوئی گناہ نہیں اور حرام کی گئیں تمہاری ان بیٹوں کی جو رُوئیں جو تمہاری پُشت سے ہیں اور حرام کیا گیا تم پر ایک ہی وقت میں دو حقیقی بہنوں سے نکاح کرنا۔ہاں جو گزر چکا اسلام سے پہلے، تو اﷲ غفور رحیم ہے۔(نور الدّین ایڈیشن سوم صفحہ ۱۴۰) : تمہاری بیوی کی لڑکیاں جو پہلے خاوند سے ہوں۔خاندانوں میں بعض موروثی بیماریاں ہوتی ہیں۔قریب کے رشتے اسی لئے منع ہیں مگر انکی کوئی حد بھی چاہیئے جو اﷲ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے قرآن کریم کے ذریعے بتادی۔: نبی کریمؐ نے فرمایا ہے کہ خالہ و بھانجی، پھوپھی اور بھتیجی کو بھی جمع نہ کرو۔(ضمیمہ اخبار بدرؔ قادیان ۲۲؍ جولائی ۱۹۰۹ء) ۲۵۔