حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 157
لیکن خدا فرماتا ہے میرے ہی بچانے سے بچتے ہیں۔اس کا ثبوت یہ ہے جب موت آتی ہے۔ہمارے فرستادے رُوح قبض کر لیتے ہیں۔مگر رُوح کو فنا نہیں اس لئے فرمایا (الانعام:۶۳) پھر اﷲ کی طرف لوٹائے جائیں گے۔وہاں آخرت میں بھی نجات خدا کے ہاتھ میں ہے۔اس کے ثبوت میں دنیا کی مشکلات کی نجات کیلئے فطرت کی گواہی پیش کی ہے۔(ضمیمہ اخبار بدرؔ قادیان ۲۶؍ اگست ۱۹۰۹ء) ۶۴۔ : معلوم ہوتا ہے اس زمانہ میں مشرک نہیں تھے۔کیونکہ مسلمانوں کا شر ک اس حد تک میں نے دیکھا کہ دریا میں کشتی خطرے میں پڑے تو ہماری طرف بہاء الحق کا نام لیتے ہیں عدن کے قریب یا اور دسؔ کہتے ہیں۔افسوس مسلمانوں میں کوئی عبادت خدا سے مخصوص نہیں رہی طواف۔سجدہ۔ہاتھ باندھ کر دُعا۔قربانیاں۔روزے۔مال کا عُشر حتّٰی کہ صلوٰۃ غوثیہ۔سب غیر اﷲ کے لئے کرتے ہیں۔ایک بڑا پیر تھا۔میں نے دیکھ کہ وہ جنوب کی طرف جھُک کر نماز پڑھتا ہے۔پوچھا تو کہا۔ہمارے حضرت اسی طرف ہیں۔ہمارا قبلہ تو وہی ہیں۔اب ان کا قبلہ کوئی اور ہو توخیر۔اس وقت مجھے یہ آیت یاد آئی۔(البقرۃ:۱۴۴) (ضمیمہ اخبار بدرؔ قادیان ۲۶؍ اگست ۱۹۰۹ء)