حقائق الفرقان (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 156 of 607

حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 156

عجیب طور پر ماری جاتی ہے۔ایک عظیم الشّان بُت پرست کا ذکر ہے کہ وہ اکتوبر کے آخری دنوں میں توشہ خانے میں تنہا بڑے اہتمام کے ساتھ درزی سے کچھ کپڑے پشمینے کے سلا رہا تھا۔میں ان کو دیکھ کر بہت حیران ہوا کیونکہ وہ کپڑے کسی انسانی قد کے معلوم نہیں ہوتے تھے۔دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ سیتاجی کے ہیں۔میں نے درزی سے کہا۔اس میں رُوئی بھی ڈال دینا۔سردی کا موسم ہے… اس پر وہ خاموش رہ گیا۔سوا اس کے کچھ نہ کہا۔آپ مذہبی معاملہ میں بھی ٹلتے نہیں۔بُت پرستوں کی عجیب عجیب حکایتیں ہیں۔کہیں گرمی سے بیہوش ہو کر گر پڑے۔خون نکلنے سے ہوش آیا۔تو اسی پتھر کو پُوجنا شروع کر دیا کہ یہی ہوش میں لایا۔میرے تین لڑکے مر چکے تھے۔ایک ہندو دوست نے مجھے کہا کہ میرے باپ کے اولاد نہیں ہوتی تھی۔دو پستے میری ماں کو کھلائے گئے۔تب مَیں اور میرا بھائی ہوئے۔یہ تجربہ شدہ بات ہے۔پس آپ بھی آزمائیے۔جیسے دواؤں کو آزماتے ہیں۔اگر آپ کو شریعت مانع ہو تو آپ کی طرف سے میں تر کٹھا دیوی کی منّت کروں۔میں نے کہا آپ تکلیف نہ کریں۔دیوی نے آپ کے باپ کو آپ جیسا دائم المریض۔آپ کے بھائی جیسا پاگل دیا۔مجھے ایسی اولاد نہیں چاہیئے۔غرض بُت پرستی میں عقل بالکل ماری جاتی ہے۔بُت پرست یہ نہیں سمجھتا کہ دنیا کی سب چیزیں میری خدام بنائی گئی ہیں اور پھر اپنے خادموں کو مخدوم بلکہ معبود بناتا ہوں۔مَقَاتِحْ : جمع ہے مفتح کی۔جس کے معنی خزانے کے ہیں۔قارون کے بیان میں بھی مفاتِحَہٗ آیا ہوا ہے جس سے مراد خزانے ہیں۔مَفَاتِیْح نہیں کہ چابیاں اس کے معنے ہوں۔(ضمیمہ اخبار بدرؔ قادیان ۲۶؍ اگست ۱۹۰۹ء) : اﷲ کی حفاظت میں ہے۔(تشحیذالاذہان جلد۸ نمبر۹ صفحہ۴۵۳) ۶۲۔  ہمارے ملک میں بعض الفاظ کے معنے غلط کرتے ہیں۔مثلاً قاہرؔ ہے۔اس کو قہر و غضب کے معنوں میں لینا سخت غلطی ہے۔خدا تعالیٰ خود فرماتا ہے۔ھُون الْقَاھِرُ فَوْقَ عِبَادِہٖ یعنی قاہرؔ کے معنے یہ ہیں کہ بندے دوسری مخلوق پر غالب ہیں تو خدا بندوں پر۔: انسان جب سے پیدا ہوا ہے۔اپنی نگہبانی کے سامان مہیّا کر رہا ہے۔موت سے بچنے کیلئے کئی دائیں تلاش کیں۔جب کچھ چارہ نہ دیکھا تو بی بی کو اپنا جوڑا بنایا تا میں نہ رہوں تو اولاد ہی رہے