حقائق الفرقان (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 155 of 607

حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 155

: بیشک وشبہ میں اعلیٰ درجہ کے نشان اپنی راستی اور صداقت پر اپنے رب کی طرف سے رکھتا ہوں اور تم اس راستی کی تکذیب کر چکے۔میری تکذیب کے بدلہ میں جو عذاب تم پر آنے والا ہے۔تم چاہتے ہو وہ عذاب تم پر جلد آ جاوے۔سو اس عذاب کا تم پر آنا میرے قبضۂ قدرت میں نہیں۔: اﷲ کے سوا کسی کی حکومت نہیں مگر یاد رکھو۔مُنکر دُکھ پاویں گے۔اﷲ ظاہر کرتا رہے گا اس حق کو جو میں لایا ہوں اور بیشک و ریب وہ (اﷲ تعالیٰ) ہے بہت ہی بڑا۔جھوٹ اور سچ میں فیصلہ کرنے والا۔جھوٹے کو ذلیل سچّے کو فتحمند کریگا۔(ایک عیسائی کے تین سوال اور انکے جوابات صفحہ۴۹) ۶۰۔  نبی کریمؐ جس ملک میں جس وقت رہتے تھے وہ ملک۔وہ وقت عظیم الشان بُت پرستی کا تھا مکّہ کے اندر ۳۶۰ بُت پُوجے جاتے تھے۔عیسائی جو تھے وہ حصرت مریمؑ کے بچاری تھے۔ایک کتاب میں میں نے پڑھا ہے کہ مریم کے بُت کو رُو پہلی گوٹے کناری کے کپڑے بھی پہنائے جاتے تھے۔بُت پُرست کی عقل