حقائق الفرقان (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 153 of 607

حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 153

حاکم کسی کو چارج دے گیا اور قائم مقام نے اس کے حق میں فیصلہ کیا۔بَمَاکَانُوْا یَفْسُقُوْنَ: بدعہدی کی وجہ سے عذابِ الہٰی آتا ہے۔ہمارا بادشاہ ایسا نہیں کہ اسے کچھ خبر نہیں۔اس کی خفیہ پولیس ہر وقت (المعارج:۳۸)موجود رہتی ہے اور  (ق: ۱۹) (ضمیمہ اخبار بدرؔ قادیان ۲۶؍ اگست ۱۹۰۹ء) ۵۰۔ : مکذّبین پر ضرور عذاب آئے گا۔یہ پندرہویں دلیل ہے۔(تشحیذالاذہان جلد۸ نمبر۹ صفحہ۴۵۲) ۵۱۔ لَا: اس آیت نے میری رسول کریمؐ سے بہت ہی محبّت بڑھائی ہے۔ایک دفعہ میں ایک کنوئیں پر گیا تو زمیندار نے میری بڑی خاطر کی۔میں حیران تھا کہ کیا وجہ ہے؟ آکر اس نے بتایا کہ آپ کے باپ نے ہمیں ایک تعویذ دیا تھا۔جس سے بیڑا پار ہو گیا۔عرب جیسا مُشرک ملک لوگوں کو یقین کہ یہ ( محمد رسول اﷲ صلے اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم) مقرّب بارگاہِ الہٰی بنتا ہے۔پس یہ تو سب کام کرا دیگا۔آپؐ انکی شرک آمیز قوّت سے کچھ فائدہ نہیں اٹھاتے۔بلکہ صاف کہتے ہیں۔میرے پاس خزانے نہیں۔میں غیب دان نہیں۔میں دیوتا کا اوتار نہیں۔میں تو ایک بشر ہوں۔جو حکم آئے اس کی تابعداری کرتا ہوں۔اَللّٰھممَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ۔(ضمیمہ اخبار بدرؔ قادیان ۲۶؍ اگست ۱۹۰۹ء) لَا: ایک مُشرک ملک میں پیدا ہونے والا کیا صفائی سے اعلان کرتا ہے۔اس آیت سے مجھے نبی کریمؐ سے بہت محبّت ہوئی۔(تشحیذالاذہان جلد۸ نمبر۹ صفحہ۴۵۲) : میں اسی پر چلتا ہوں جو مجھ کو حکم آتا ہے۔(فصل الخطاب حصّہ دوم صفحہ۷۷)