حقائق الفرقان (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 151 of 607

حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 151

ہے۔اور یوں بھی بائیبل کا ترجمہ ۲۸۰۰ زبانوں میں ہو چکا۔اور احکام الہٰی کچھ نہ کچھ کسی نہ کسی رنگ میں تمام اقطارِ عالم و اکنافِ جہاں میں پہنچ چکے ہیں۔آریہ برہمو بھی توحید کاپرچار کرتے ہیں۔غرض اﷲ تعالیٰ اس وقت تضرّع چاہتا ہے۔یہاں قادیان میں پچھلے دنوں طاعون پھیلنے لگا۔مَیں نے خدا کی جناب میں نہایت تصرّع سے دُعا کہ ابھی تیری چھوٹی سی جماعت ہے۔اب تو اس جماعت میں اس درجہ کا دعا کرنیوالا بھی نہیں۔پس تُو اپنا فضل کر۔میں دیکھتا ہوں کہ طاعون معًا چلا گیا۔جو بیمار تھا وہ بھی اچھا ہو گیا۔یہ تضرّع کا نتیجہ ہے۔(ضمیمہ اخبار بدرؔ قادیان ۲۶؍ اگست ۱۹۰۹ء) : جب کوئی نبی آتا ہے تو بیماریاں اور قحط ضرور پڑتے ہیں یہ چودہویں دلیل ہے ہر نبی کے وقت ایسا ہوا۔(تشحیذالاذہان جلد۸ نمبر۹ ستمبر ۱۹۱۳ء صفحہ ۴۵۲) ۴۴۔ : یہ باتیں (جنگ و جدال ) جس میں کئی کئی طرح کی مصبیتیں آتی ہیں۔بَاْس کے مقابلہ میں ہے۔آجکل بھی جنگ و جدال عجیب عجیب رنگ میں ظاہر ہو رہا ہے قسطنطنیہ کی جو حالت ہے۔ایران کی جو حالت ہے۔وہ تم اخباروں میں پڑھتے ہو۔چالباز مدبّر عرب والوں کو سمجھا رہے ہیں۔تم الگ ہو جاو۔ترکوں کے ماتحت نہ رہو۔مطلب یہ کہ متفرق ہو کر طاقت کم ہو جاوے پھر قبضہ میں آسانی ہو۔اَعْمَالَھُمْ: ایک اصل بتایا جاتا ہے کہ دنیا کے کام یوں کرو۔گویا مرنا ہی۔یہ بھی اسی مثل سے ہے۔(ضمیمہ اخبار بدرؔ قادیان ۲۶؍ اگست ۱۹۰۹ء) ۴۶۔ : ساری قوم ہلاک نہیں ہوتی۔جو مدبّرین ہیں وہ ہلاک ہو جاتے ہیں۔وَ یعنی کی صفت اپنا جلوہ دکھا چکتی