حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 142
اولاد۔اپنی عزّت برباد کر چکے ہیں۔وہ ہرگز عقلمند نہیں ہیں۔… فرما کر بتایا ہے۔کہ تم سوچو اور فراعنہ مصر کا انجام کیا ہوا؟ کیا ان کا نام و نشان باقی ہے۔ابراہیمؑ کے مکذّب کا کیا انجام ہوا۔جس کے نام کی نسبت بھی مفسّرین کو اختلاف ہے۔وہ بے نام و نشان ہوا اور اس کے مقابلہ میں ابراہیمؑ کو دیکھو کہ اس وقت یورپ امریکہ۔ایشیا۔کے عیسائیوں۔یہودیوں۔مسلمانوں کا پیشو اہے۔(ضمیمہ اخبار بدرؔ قادیان ۲۶؍اگست ۱۹۰۹ء) زمین میں سیاحت کر و پھر دیکھو جھُٹلانے والوں کا انجام کیا ہوا۔کوئی دیکھ لے جو حالت انبیاء علیہم السلام کے مکذّبوں کی ہوئی اس سے بڑھ کر ہمارے حضور علیہ السلام کے نافہم مکذّبوں کی ہوئی۔جہاں سے مکذّبوں نے آپؐ کو نکالا۔وہاں سے خود ہی ابدالا باد کے واسطے نکل گئے۔سچ ہے وَالْعَاقِبَۃُ لِلْمُتَّقِیْنَ۔(تصدیق براہین احمدیہ صفحہ۲۶) ۱۳،۱۴ فرمایا ہے : اس قیامت کے دن کو ہی فکر کرو۔جہاں اوّلین آخرین جمع ہوں گے۔ایک شخص نے مجھ سے کہا۔عذاب غیر مقطوع ہے یا نہیں؟ میں نے کہا میرے نزدیک غیر مقطوع نہیں۔اس نے کہا پھر تو ہم بھی آپ سے آ ملیں گے۔میں اس وقت خاموش رہا۔تھوڑی دیر بعد مَیں اور وہ بازار میں گئے۔میں نے چوک میں پوچھا۔یہاں آپ کاکوئی واقف ہے؟ کہا نہیں۔میں نے کہا کہ میرا بھی کوئی واقف نہیں۔پس یہ لو دو روپے۔اور مجھے ایک جُوت سر پر مار لینے دو۔بول اٹھا۔میں سمجھ گیا۔میں نے اسے کہا۔او نادان !چند واقفوں میں تُو اپنی ہتک گوارہ نہیں کر سکتا تو وہاں جہاں سب جمع ہوں گے۔اپنی ہتک کیونکر گوارہ کر سکے گا؟ تمہارے اقوال و اعمال کا سننے