حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 139
سُوْرَۃُ الْاَنْعَامِ مُکِّیَّۃُ سورۃ انعام میں پندرہ کے قریب رسالت پر دلائل ہیں۔نبی کریمؐ کی تعلیم اس میں خصوصیت سے درج ہے۔(تشحیذالاذہان جلد۸ نمبر۹ صفحہ۴۵۲) آپ لوگوں کو یاد ہو گا کہ سورۂ بقرہؔ و آل عمرانؔ میں خانہ جنگیوں کے متعلق ہدایت ہے اور یہ کہ جہاد میں متّقی ہی کامیاب ہوں گے۔پھر نساءؔ اور مائدہ میں معاشرت کے متعلق ہدایات ہیں۔اب اس سورۂ انعام میں حضرت نبی کریمؐ کی رسالت کی نسبت ثبوت اور اعتراضوں کے جواب ہیں۔(ضمیمہ اخبار بدرؔ قادیان ۲۶؍اگست ۱۹۰۹ء) ۲۔ : اوپر دیکھو اور دیکھو اور مختلف ستاروں کی دُوری اور حالات کی طرف توجہ کرو پھر نیچے زمین اور مَافِیْھَا پر نظر کرو۔سُوئی کے ایک ناکے پر جو پانی کا قطرہ ہے۔اس میں بھی صدہا کیڑے ہیں۔ایک صاحب نے لکھا کہ پہلے انسان نے بڑے بڑے جانوروں سے مقابلہ کیا۔اب چھوٹے چھوٹے جانورں۔طاعون کا کیڑا۔ہیضہ کا کیڑا۔مرگی کا کیڑا کا مقابلہ ہے۔دیکھئے۔: روشنی اور اندھیرے کا فرق دوپہر اور آدھی رات کے وقت معلوم ہو سکتا ہے۔روشنی میں تمیز اور اندھیرے میں بے تمیزی ہوتی ہے۔: پس خالق السَّمٰوٰتِ وَالْاَرض اور جَاعل الظلماتسے بڑھ کر کون ہو سکتا ہے اور اس میں اشارہ ہے کہ بے تمیزی سے تمیز دینا بھی اسی اﷲ کا کام ہے۔اور اسی میں ثبوت ہے۔بعثتِ نبوّت کا۔عالمِ روحانی میں جب ظلمات بڑھے تو نُور ضروری ہے۔(ضمیمہ اخبار بدرؔ قادیان ۲۶؍اگست ۱۹۰۹ء)