حقائق الفرقان (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 133 of 607

حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 133

  :  کے معنی ہیں ’’ مان لو ‘‘ (تشحیذالاذہان جلد۸ نمبر۹ صفحہ۴۵۱) ۱۱۰۔  کوئی شخص کسی دوسرے کے سامنے ذلّت نہیں چاہتا۔جب ایک کے سامنے نہیں چاہتا۔تو جہاں اوّلین و آخرین جمع ہوں گے وہاں اپنی ذلّت کیونکر برداشت کر سکتا ہے۔اﷲ کے ایمان کے ساتھ آخرت کے ایمان کا ذکر ہے۔بلکہ ملائکہ کے ایمان کو بھی اس کے پیچھے رکھا ہے۔ (البقرہ:۱۷۸) اس کی وجہ یہ ہے کہ آخرت پر ایمان ہو تو پھر انسان بدی کی جرأت نہیں کر سکتا۔کیونکہ اس کو یقین ہوتا ہے کہ میری تمام منصوبہ بازیاں خدا کے حضور پیش کی جاویں گی۔! یعنی علم کی نفی خدا کے علم کے مقابلہ میں ہے۔کیا معنے؟ ہمارا علم کچھ بھی نہیں۔کیونکہ جو کچھ جانتے ہیں وہ تو بخوبی جانتا ہے۔ (البقرہ :۳۳) دوسرے معنے یہ کئے گئے ہیں اور یہ ظاہر ہیں۔کہ یہاں تو دل کا معاملہ ہے اور ہم کسی کے دل کی باتیں نہیں جانتے کہ اس نے ہمیں کیسا مانا۔(ضمیمہ اخبار بدرؔ قادیان ۱۹؍اگست ۱۹۰۹ء) ۱۱۱۔