حقائق الفرقان (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 132 of 607

حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 132

جام کے متعلق شُبہ ہوا۔ایک لوٹے کی ایک نالی میں فہرست بھی مل گئی۔جس برتن کے متعلق شُبہ تھا وہ بھی اس میں درج تھا۔جو دیا نہیں گیا اور یہ پہلے پوچھ لیا گیا کہ اس نے کوئی چیز تمہارے آگے بیچی تو نہیں اور پھر جام جہاں بیچا وہاں سے بھید کُھل گیا۔اس صورت میں وہی عیسائی گواہ مدعا علیہ بن گئے۔: میںہ ؔ کا مرجع اﷲ ہے یا قسم۔یعنی ہم نہیں لیتے اﷲ کے نام کے بدلے۔یا قسم کے بدلے کوئی دنیاوی فائدہ۔(ضمیمہ اخبار بدرؔ قادیان ۱۹؍اگست ۱۹۰۹ء) ۱۰۸۔  اِ: اگر مطّلع ہو گئے۔عَثَرَ کے معنے ہیں کسی کے اوپر گرنا۔عثرتُ مِنْہُ عَلٰی خِیَانَتِہٖ ایک محاورہ ہے۔: ای استوجب الاثم یعنی انہوں نے واجب کر لیا اپنے ذمّے اِثم۔اِثم کہتے ہیں غیر کا مال بلاوجہ لے لینے کو۔: اور دو قسمیں کھائیں مدعیوں کی طرف سے۔: اس کا ترجمہ غور سے سُنو۔اکثر الوگوں نے غلطی کی ہے۔دو قسم کھانے والے ان وارثوں میں سے ہوں (دو وارث کیسے ہیں) ایسے وارث ہیں کہ ثابت کر دیا ہے ان پہلوں نے وارثوں کیلئے طلبِ حق کو ( یعنی اس بات کو کہ تم اپنا حق لے لو) اور یہ (کیسے ہیں ثابت کرنیوالے) بہت قریبی ہیں اس میّت سے۔(ضمیمہ اخبار بدرؔ قادیان ۱۹؍اگست ۱۹۰۹ء) ۱۰۹۔