حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 131
: اﷲ نے پہلے اسلام۔دین۔ایمان۔آخرت کی تاکید کی ہے اور مفصّل بیان فرمایا ہے۔کہ جو حکمِ الہٰی جناب الہٰی سے آویں انکی پابندیاں کرو۔اور رسوماتِ قبیحہ کو چھوڑ دو۔دین کے بعد دنیا کی اصلاح کے متعلق فرماتا ہے کہ اے ایماندارو! جب تم میں سے کسی کی موت کے علامات ظاہر ہوں۔حَضَرَکے یہاں معنی ہیں تو تمہیں حاضر ہونا چاہیئے۔شہادت کے معنی حضور کے ہیں۔اضافت ظرف کی طرف سے جیسے (الکہف:۷۹)اور(السبا:۲۴)اور شہادت بمعنی حضور جیسے(البقرہ:۱۸۶) (النور:۳) : حاضر ہونا کسی کا۔دو کا۔وصیت کے وقت۔کبھی کبھی اسم کو رکھ لیتے ہیں اور فعل کو حذف کر دیتے ہیں جیسے (النساء:۸۰)میں۔اَکْتِفْ کیونکہکَفٰی کا صلہ بؔ نہیں آتااسی طرح یہاں یَشْھَدْ محذوف ہے۔وہ دو کیسے ہیں ۔صاحبانِ رُشد و عقل۔: تم میں سے دین کا تعلّق رکھنے والے۔: مسلمان نہ ہوں۔قاضی شُرَیح نے لکھا ہے کہ سفر اور وصیت کے معاملہ میں غیر مسلم گواہ بھی لے لئے جاتے ہیں۔: کے بعد اسم نہیں آتا پس یہاں فعل() محذوف ہے۔یعنی ۔: یہاں اعتراض کیا گیا ہے کہ جب وہ گواہ ہیں۔تو گواہ سے قسم کیسی۔ہم کہتے ہیں بصورتِ شُبہ وہ گواہ نہیں رہے۔بلکہ مال ان کے سپرد کیا گیا ہے۔پس وہ اس صورت میں مدعا علیہ ہو گئے۔ورثاء مدعی ہیں اور یہ مدعا علیہ۔مقدّمہ کے دوران میں ایسا ہو جاتا ہے۔ایک تمیم داری نصرانی تھا اور ایک عدی بن بداسہمی۔مکّہ میں تجارت کیلئے آتے۔عدی ایک تاجر ان کے ساتھ گیا۔راہ میں مر گیا اور اپنا مال ان کے سپرد کر گیا۔عور و بن عاص اس کے وارث تھے۔انکو ایک