حقائق الفرقان (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 130 of 607

حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 130

ہمارے پاس کچھ نہیں۔ایک ساہوکار نے اس بات کو سُن لیا اور کہا کہ مَیں سب کچھ دوں گا۔چنانچہ اس نے روپیہ دیا۔تب قریبی رشتہ دار نے مجھے کہا کہ تم سے تو وہی اچھا ہے۔لیکن جب اُس نے سُود در سُود اور اصل کا مطالبہ کیا اور زمین تک جانے لگی تو معلوم ہوا کہ خیر خواہ کون تھا! (ضمیمہ اخبار بدرؔ قادیان ۱۹؍اگست ۱۹۰۹ء نیز تشحیذالاذہان جلد۸ نمبر۹) ۱۰۶۔ : چالیس برس کا عرصہ گزرتا ہے۔مَیں نے جب مسند احمد بن حنبل پڑھی تھی تو پہلی حدیث حضرت ابوبکرؓ سے اسی آیت کی تفسیر کے متعلق پڑھی تھی آپ فرماتے ہیں کہ اِذَارَأَیْتَ شُحًّا مُطَاعًا وَھَویً متبعًا واَعْجَبَ کلُّ ذِیْ رایٍ بِرَأیِہٖ۔جب ایسا وقت آ جاوے کہ انسان بُخل کنجوسی کا مطیع ہو اور خواہشوں کا متبع اور ہر ایک شخص اپنی رائے ہی پسند کرتے لگے تو پھر تُو اپنی جان کا فکر کر۔امام نوویؒ فرماتے ہیں کہ جب تم ہدایت پا جاؤ تو پھر تم امر بالمعروف نہی عن المنکر بھی کرو گے۔پھر اتمام حجّت کے بعد اگر کوئی پھر بھی نہ مانے تو پھر اس کی گمراہی تمہیں نقصان نہیں پہنچا سکتی۔(ضمیمہ اخبار بدرؔ قادیان ۱۹؍اگست ۱۹۰۹ء نیز تشحیذالاذہان جلد۸ نمبر۹) ۱۰۷۔