حقائق الفرقان (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 129 of 607

حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 129

صبح کسی بات سے ناراض جو ہوئے۔جھٹ کہہ دیا۔میرا استعفاء لے لو لیا گیا۔تو بعد میں افسوس۔ہمارے ایک شاگرد تھا۔اُس نے جب ابراہیمؑ کی نسبت ہم سے سُنا کہ خدا نے اسے فرمایااَسْلِمْ تو اس نے کہا(البقرہ:۱۳۲)تو وہ جھٹ بول اٹھا۔میں بھی آپ کا ایسا مطیع ہوں۔ہم نے آزمائش کیلئے یُوں کیا کہ وہ گھر میں کھانا کھاتا تھا۔کہہ دیا۔اب تم طالب علموں کے ساتھ کھانا کھایا کرو۔اس پر اسے ایسا صدمہ ہوا کہ وہ کہے مجھے واپس گھر بھجواؤ۔مجھے اپنی تذلیل منظور نہیں۔(ضمیمہ اخبار بدرؔ قادیان ۱۹؍اگست ۱۹۰۹ء) ۱۰۴۔   : جس اونٹنی سے بارہ بچیاں پیدا ہو جاویں۔اسے آزاد کر دیتے۔نہ دودھ لیتے۔نہ بال کاٹتے۔ہاں مہمان کو دودھ پلاتے۔اگر تیرہویں بچی بھی ہو جاتی تو اسے بھی آزاد سمجھتے۔خدا نے اس سے منع فرمایا۔ایسی انٹنی کو بیرہؔ کہتے ہیں۔:تین طرح پر جانور چھوڑے جاتے ہیں ایک تو جب وباء پڑے تو ایک جانور لیکر اُسے سیندھور وغیرہ ملا جاتا ہے۔پھر اس پر غلّہ وغیرہ رکھ کر شہر سے باہر نکال دیتے ہیں۔۲۔بڑے بڑے امراء اپنے جانور چھوڑ دیتے ہیں۔اپنی عظمت۔جبروت۔رُعب داب دکھانے کیلئے کہ اسے بھلا کوئی چھیڑ سکتا ہے؟ عرب میں ایک شخص نے دُنبہ چھوڑا تھا اس کے گلے میں چھُری بھی باندھ دی تھی کہ کسی کو جرأت ہے کہ اسے ذبح کر۔۳۔نروں کو چھوڑ دیتے ہیں تاکہ نسل بڑھائیں۔سکھوں کے زمانے میں بھی ایسا ہوتا رہا ہے۔مگر یہ سانڈ وغیرہ تو بجائے فائدہ کے نقصان کرتے ہیں اور وہ قوّت نسل کشی کی ان میں رہتی ہی نہیں۔: ایک بکری ہو۔جب پانچ دفعہ جنے دو دو میمنے۔تو اس بکری کو چھوڑ دیتے۔: اونٹ جس سے دس کے قریب نسل ہو چکی ہو۔: رسوم کے تابع ہو کر اس درجہ تک پہنچ جاتے ہیں کہ پھر اپنے تئیں روک نہیں سکتے ہماری ایک قریبی رشتہ دار ایک شادی پر امداد کی درخواست کرنے لگی۔ہم نے کہا۔ان رسوم کی ادائیگی کے لئے