حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 128
انسان ضعیف ہے اﷲ تعالیٰ نے اس پر ان احکام کی تعمیل فرض کی ہے۔جو خالقِ فطرت نے اس کے مناسبِ حال جانی۔اگر کوئی خواہ مخواہ سوال کر کے اپنے تئیں پیچ در پیچ مسائل کا مطیع بنائے تو یہ اس کی غلطی ہے۔حضرت صاحب نے بیعت کا اشتہار دیا۔اور آپ کو الہام ہوا کہ لوگوں سے بیعت لو۔تو آپ چونکہ جانتے نہ تھے۔کہ بیعت کیونکر لی جاتی ہے اس لئے دس ماہ اسی فکر میں بیٹھے رہے اور باریک در باریک راہوں سے معلوم کر لیا کہ یوں کرنا چاہیئے۔ہمارے ایک دوست کو اس بات کی ٹوہ تھی کہ بیعت میں کیا کیا شرائط ہوں۔مَیں نے انہیں سمجھایا کہ ممکن ہے کہ ہم ان کے پابند نہ ہو سکیں اس لئے ایسی کوشش نہیں کرنی چاہتے۔مگر اس نے نہ مانا۔سردست تو وہ مخالف ہے۔اسی طرح میں دیکھتا ہوں کہ لوگ عجیب عجیب سوال کرتے ہیں۔کوئی کہتا ہے کہ ہماری مخفی دولت کا پتہ لگا دو۔یا فلاں کام کی نسبت دریافت کر دو۔ہو گا ؟ یا نہیں؟ گویا ہمیں خدا کا ایجنٹ سمجھتے ہیں۔نبی کریمؐ کے سامنے ایک شخص نے پوچھا مَنْ اِبِیْ؟ دوسرے نے کہا۔کیا ہر سال حج فرض ہے؟ تو آپؐ نے جھڑک دیا تھا ! علماء میں بھی تحقیقات ہوتی رہتی ہے کہ آدمؑ جس شجرہ کے نزدیک گیا تھا اس کا نام کیا تھا۔گیہوں انگور اور پھر انکی تشبیہات تک گئے ہیں۔۲۔نوح ؑ نے جو کشتی بنائی تھی اس کی لکڑی کس درخت کی تھی۔۳۔وہ شخص جس نے ابراہیمؑ سے مباحثہ کیا تھا اس کا کیا نام تھا۔کَا الَّذِیْ مَرَّعَلٰی قَرْیَۃٍ (البقرہ:۲۶) والا کوئی ہے۔یہاں تک کہ بعض نے اِسے ولی اﷲ۔بعض نے نبی اور بعض نے کافر بھی کہا ہے۔۴۔موسٰیؑ کے زمانہ میں جس بقرہ کے ذبح کا حکم ہوا تھا۔وہ گائے تھی یا بیل۔یہ سوال تو بنی اسرائیل کو بھی نہ سوجھا۔۵۔اصحابِ کہف کے کتّے کی شکل اور رنگ کیا تھا۔۶۔شدّاد کا باغ کیسا تھا۔۷۔بّراق کی شکل کیسی تھی؟ ایسی بیہودہ تحقیقوں میں پڑنے سے وقت ضائع ہوتا ہے اور منشاء الہٰی جو شریعت کے نزول سے تھا جاتا رہتا ہے۔اصل غرض قرآن کی تو تقوٰی اور اعمالِ صالحہ۔خشیت اﷲ کا پیدا کرنا اور خودی خود پسندی اور خودرائی۔عُجُب۔بدنظری۔دنیا پرستی سے بچنا ہے۔: پہلے بڑے جوش و خروش سے دعوٰیٔ اطاعت کیا جاتا ہے پھر اس کو بناہ نہیں سکتے۔ایک دوست نے بڑے زور سے اپنے افسر کیلئے دُعا کی جو اس کا مخالف تھا۔الہام ہوا۔نوکری نہ چھوڑنا