حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 10
یہ وہ رکوع ہے جس پر عمل مسلمانوں سے بہت کچھ اُٹھ گیا ہے۔لڑکیوں کو حصّہ نہیں دیا جاتا۔ (البقرہ : ۸۶) اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو وراثت نہیں دیتے ان کیلئے (البقرہ : ۸۶) ہے۔و اَﷲُ عَلِیْمٌ حَلِیْمٌ۔تم حکیموں فلاسفروں عقلمندوں کی باتیں مانتے ہو پس علیم خدا کی باتیں بھی مان لو۔(ضمیمہ اخبار بدرؔ قادیان ۲۲؍جولائی ۱۹۰۹ء) فَوْقَ اثْنَتَیْنِ: ترجمہ صحیح یہ ہے کہ دو یا دو سے زیادہ۔کَلَالَۃً: جس کا اصل و نسل نہ ہو۔اَخٌ اَوْ اُخْتٌ: یہ اس بہن بھائی کا حصّہ ہے جو ماں کی طرف سے ہو۔(تشحیذالاذہان ستمبر ۱۹۱۳ء جلد ۸ نمبر ۹ صفحہ ۴۴۷) ۱۶،۱۷۔ : اس سے شاید یہ مدّعا ہے کہ نیک ہو جاؤ۔(ضمیمہ اخبار بدرؔ قادیان ۲۲؍جولائی ۱۹۰۹ء) اس کا مطلب تو صاف تھا کہ شریر عورت کو بے وجہ سزا نہ دی جاوے بلکہ اسکی شرارت پر چار گواہ گواہی دیں کہ یہ عورت شریر ہے تو اس کو قید کر دو۔جب تک خدا تعالیٰ کوئی راہ نہ نکالے اور اگر میاں بی بی