حقائق الفرقان (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 115 of 607

حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 115

حضرت علیؓ بڑے شجاع و بہادر تھے۔مگر قتل کرنیوالوں نے حضرت علیؓ کو قتل کر دیا۔حضرت عثمانؓ کو مارنے والوں نے تمام صحابہ کرام کے سامنے مار دیا۔حضرت عمرؓ کو نماز پڑھتے ہوئے ایک اکیلے شخص نے خنجر لگا دیا۔حالانکہ وہ زمانہ اسلام کی پوری …شوکت کا زمانہ تھا۔ان لوگوں کے پاس حفاظت کے سامان بھی تھے ارد گرد سب خیر خواہ تھے۔مگر پھر بھی قتل کر ہی دیئے گئے۔برخلاف اس کے بنی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم اتنی مشکلات میں۔عرب کا اکثر حصّہ اور اپنے پرائے دشمن۔پھر کس تحدّی سے جاہلوں کو للکار کر پیشگوئی کی جاتی ہے۔ ۔ا ور یہ پیشگوئی پھر پوری نکلتی ہے۔: منکر لوگوں کو تیرے قتل کرنے کی کوئی راہ نہ سوجھے گی۔شیعہ قوم پر مجھے بار بار تعجب آتا ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ نبی کریمؐ کو ابوبکر کا خوف تھا حضرت علی کی خلافت کا اعلان نہ فرماتے تھے۔اسی لئے  کا نزول ہوا۔نادانوں کو یہ سمجھ نہیں آتی کہ  کا وعدہ موجود۔پھر دو تین آدمیوں کا کیا خوف تھا۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۲؍اگست ۱۹۰۹ء) لکھا ہے کہ ادائل میں جناب پیغمبر خدا صلی اﷲ علیہ وسلم چند صحابہ کو برعایت ظاہر اپنی جان کی حفاظت کے لئے ہمراہ رکھا کرتے تھے۔پھر جب یہ آیت نازل ہوئی  یعنی خدا تجھ کو لوگوں سے بچائے گا تو آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے ان سب کو رخصت کر دیا اور فرمایا کہ اب مجھ کو تمہاری حفاظت کی ضرورت نہیں۔(الحکم ۲۴؍اگست ۱۸۹۹ء صفحہ۲) اس بات پر بھی غور کرنا چاہیئے کہ سرورِ کائنات صلی اﷲ علیہ وسلم نے اﷲ تعالیٰ کی اس پاک کتاب کے پہنچانے میں کیا کیا مصائب اور مشکلات برداشت کیں۔آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلّم کی پاک لائف پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آپؐ نے اس پاک کلام کو لوگوں تک پہنچا دینے یں اپنی جان تک کی پرواہ نہیں کی۔مکّی زندگی جن مشکلات کا مجموعہ ہے۔وہ سب کی سب اسی ایک فرض کے ادا کرنے کی وجہ سے آپ کو برداشت کرنی پڑی ہیں۔لکھا ہے کہ جب مکّہ کے شریروں اور کفّار نے آپ کے پیغام کو نہ سُنا تو آ پ طائف تشریف لے گئے اس خیال سے کہ ان کو سُنائیں اور شاید ان میں کوئی رشید اور سعید ایسا ہو جو اُس کو سُن لے اور اس پر عمل درآمد کرنے کو تیار ہو جائے جب حضور علیہ الصلوٰۃ و السلام طائف پہنچے تو آپؐ نے وہاں کے عمائد سے فرمایا کہ تم میری ایک بات سُن لو۔لیکن ان شریروں۔قسی القلب لوگوں نے آپ کا پیچھا کیا اور نہایت سختی کے ساتھ آپؐ کو ردّ کر دیا۔انیٹیں اور پتھر مارتے جاتے تھے۔اور آپؐ آگے آگے دوڑتے جا رہے تھے۔یہاں تک کہ آپ بارہ کوس تک بھگے چلے آئے۔اور پتھروں سے آپؐ زخمی ہو گئے۔ان تکالیف اور مصائب کو آپؐ نے کیوں برداشت کیا؟ آپؐ خاموش ہو کر اپنی زندگی گزار سکتے تھے پھر وہ بات کیا