حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 114
: میرے نزدیک اس سے مُراد مکالماتِ الہٰیہ ہیں۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۲؍ اگست ۱۹۰۹ء) ۶۸۔ میں کئی دفعہ بتا چکا ہوں کہ سورۃ نساء و مائدۃ معاشرۃ و تمدّن کے مسائل کیلئے ہے کہ آدمی ارام میں کیونکر گزارے۔چنانچہ بیوی۔بچّوں۔یتیموں۔بیواؤں سے جیسا سلوک کرنا چاہیئے۔اسکا ذکر ہو چکا ہے اب فرماتا ہے کہ آرام میں اﷲ کی کتاب اور اصلاح بین النّاس کی طرف متوجہ ہو۔لڑائیاں اگر فتوحات کے لئے ہوں، تو آرام ان فتوحات کے انتظام کیلئے۔:- یہ آیت بہت قابلِ غور ہے کہ نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلّم مدینہ میں سات بلکہ دس مشکلات میں تھے۔ایسی حالت میں آپؐ تبلیغ کرتے رہے۔ا۔مکّہ کے دشمن تو موجود تھے ہی آپ ۱۲۰ میل پر ان چالاکیوں سے کیونکر واقف ہو سکتے تھے۔۲۔یہود…بنو قینقاع جو بڑی بے رحم قوم تھی۔۳۔قریظہ جن کا مکّہ کے گھر گھر میں دخل تھا۔۴۔بنو نضیر جو گنڈے تعویز وغیرہ بھی دیتے تھے۔۵۔عیسائیوں کا گروہ۔۶۔اوس و خزرج دونوں میں منافق۔۷۔مشرکانِ مدینہ۔۸۔پھر عیسائی جو روماؔکی سلطنت کو اُبھارتے تھے۔۹۔یہود ایران والوں کو اُبھارنے والے۔ایسی مشکلات کا سامنا تھا۔۱۰۔مکّہ کا دشمن بدستور بلکہ آگے سے زیادہ تیز۔: اور اﷲ تمہیں لوگوں سے محفوظ رکھے گا۔جس وقت یہ آیت اُتری آپؐ کے خیمہ کے گرد پہرہ تھا۔آپ نے فرمایا۔کہ سب چلے جاؤ۔اب مجھے تمہاری ضرورت نہیں۔اس آیت پر مجھے ایک مضمون سُوجھا کرتا ہے کہ حضرت عمرؐ کیسے بڑے آدمی کیسے مدبّر تھے اور بارُعب۔حضرت عثمانؓ ایک چلتا پُرزہ قوم بنو اُمیّہ میں سے تھے۔جن میں بڑے بڑے عقلمند اور تجربہ کار تھے۔