حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 106
: جامع۔محافظ۔: کہتے ہیں پانی کے گھاٹ کو۔اور خشکی ( کے راستہ ) کو کہتے ہیں۔انسان کو دو ضرورتیں ہیں۔ایک ضرورت تو اﷲ کی پاک سریعت ہی سے حل ہوتی ہے۔اور ایک قسم کی ضرورت کو اﷲ نے انسان کے عقل و فہم پر چھوڑ دیا ہے۔مثلاً اﷲ تعالیٰ نے فرمایا کہ تم زراعت کرو۔اب کھیتوں۔بیج بونے کے طریق کو شریعت میں داخل نہیں کیا۔ایسا ہی کپڑے پہننے کا حکم ہے مگر اب ہر ملک کے موسموں کے سبب جیسا کپڑا چاہیئے یہ انسان کے فہم پر چھوڑ دیا ہے۔: یعنی تمہیں ایک ہی مذہب پر بنا دیتا۔مگر یہ جبر ہو جاتا۔لیکن ہم نے تمہیں ان قوٰی میں جو ہم نے دئے ہیں۔لِیَبْلُوَکُمْ انعام دینا چاہا ہے پس تم نیلیاں بڑھ بڑھ کر کرو اور اجر لو۔اگر اپنے اختیار سے تم نیکی نہ کرو بلکہ فطرتاً تو پھر اجر کیسا ہو۔(ضمیمہ اخبار بدرؔ قادیان ۱۲؍ اگست ۱۹۰۹ء) میں دنیا پرست واعظوں کا دشمن ہوں کیونکہ ان کی اغراض محدود، ان کے حوصلے چھوٹے۔خیالات پست ہوتے ہیں۔جس واعط کی اغراض دینی ہوں وہ ایک ایسی زبردست اور مضبوط چٹان پر کھڑا ہوتا ہے کہدنیوی واعط سب اس کے اندر آ جاتے ہیں کیونکہ وہ ایک امر بالمعروف کرتا ہے۔ہر بھلی بات کا حکم دینے والا ہوتا ہے اور ہر بُری بات سے روکنے والا ہوتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ قرآن شریف کو اﷲ تعالیٰ نیمُھنیْمِنْ فرمایا۔یہ جامع کتاب ہے جس میں جیسے ملٹری (فوجی) واعط کو فتوحات کے طریقوں اور قواعد جنگ کی ہدایت ہے تو ایسے نظامِ مملکت اور سیاست مُدن کے اصول اعلیٰ درجہ کے بتائے گئے ہیں۔غرض ہر رنگ اور ہر طرز کی اصلاح اور بہتری کے اصول یہ بتاتا ہے۔(الحکم ۱۷؍ مارچ ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۵) ۵۱۔ : یعنی شُترِ بے مہار بننا چاہتے ہیں۔(ضمیمہ اخبار بدرؔ قادیان ۱۲؍ اگست ۱۹۰۹ء) ۵۲۔