حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 86 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 86

حقائق الفرقان ۸۶ سُوْرَةُ الدَّهْرِ ہوئی ہوگی۔اور کھانا کھلاتے ہیں خود حاجت رکھ کر محتاج کو اور یتیم کو اور قیدی کو۔(اور کہتے ہیں ) کہ ہم تم کو خاص اللہ کے لئے کھانا کھلاتے نہ ہم تم سے بدلا چاہتے ہیں اور نہ شکر گزاری۔ہم کو ڈرلگ رہا ہے اپنے رب کی طرف سے ایک اداس اور خطر ناک اور لمبے دن کا تو اللہ نے ان کو بچا لیا اس روز کی سختی سے اور ان کو ملا یا تازگی اور خوش حالی سے۔تفسیر - هَلْ أَتَى عَلَى الْإِنْسَانِ حِيْنٌ مِّنَ الدَّهْرِ لَمْ يَكُنْ شَيْئًا مَذْكُورًا۔(الدھر :٢) انسان کی ہستی ہی کیا تھی کچھ بھی نہ تھا۔اللہ تعالیٰ نے ایک قطرہ سے ہاں ایک تھوڑی سی چیز سے بنا کر سمیع و بصیر بنا دیا ہے میں نے جب اس پر غور کیا ہے تو معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے تیرہ علوم پہلے ہی بتادیئے ہیں۔ابھی کہتے کہتے معلوم ہوا کہ تیرہ نہیں بلکہ ۱۴ علوم نہ ماں سکھاتی ہے نہ باپ نہ کوئی اور۔ان میں سے بعض علوم یہ ہیں :۔اول دودھ کو چوسنے اور نگلنے کا علم ہے غور کرو کہ اگر کوئی بچے کو یہ علم سکھا تا تو کس طرح اور کس بولی میں سکھاتا۔(۲) پھر ایک اور علم ہے جو بد یہات کہلاتی ہیں۔(۳) بچہ کل اور جزو کو سمجھتا ہے۔ماں ایک چھاتی سے دودھ پلا رہی ہو اور ابھی اس میں باقی ہو جب وہ دوسری چھاتی پر لے جانا چاہے تو روتا ہے گویا کل اور جز و کو سمجھتا ہے۔ایسا ہی بچوں کو مٹھائی دے کر دیکھا ہے اگر سارے ٹکڑے میں سے آدھی کاٹ لی جاوے تو رو پڑتا ہے۔(۴) طول اور عرض کو بھی سمجھتا ہے۔(۵) اس بات کو سمجھتا ہے کہ دو مکان میں ایک جسم نہیں ہوسکتا۔ایک لڑکا اگر آ جاوے تو اسے دھکا دیتا ہے اور ایک پستان جو آپ پی رہا ہے دوسرے کو نہیں لینے دیتا۔(1) دوضدوں کو خوب سمجھتا ہے کھڑا ہونے کو جی نہ چاہے تو نہیں اٹھتا، بیٹھنے کو نہ چاہے تو کھڑا ہو جائے گا۔(۷) صدق و کذب کو خوب سمجھتا ہے مٹھائی نہ دو اور یونہی کہہ دو کہ تمہارے ہاتھ میں ہے کبھی