حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 83
حقائق الفرقان ۸۳ سُوْرَةُ الْقِيمَةِ والا ہے ( جو اسے اب بچالے ) اور ( مریض ) یقین کرتا ہے۔کہ اب جدائی کا وقت ہے اور سخت گھبراہٹ اس پر طاری ہوتی ہے۔اس وقت چلنا تیرے رب کی طرف ہے۔تصدیق براہین احمدیہ کمپیوٹرائز ڈایڈ یشن صفحہ ۱۷۴ حاشیہ) التراقی - گلے کی ہنسلی کی جگہ۔رقی، یرقی، رقیا سے ماخوذ ہے۔سكتة وَقِيلَ مَنْ رَاقٍ۔اس کے کئی معانی ہیں۔ایک تو یہ کہ رقیہ سے مشتق ہے۔جیسے بسمہ اللہ أرقيك اس صورت میں جھاڑ پھونک کے معنے ہوں گے۔دوسرے یہ کہ رقی ترقی رفیا سے۔اس صورت میں راق کے معنے اوپر لے جانے کے ہوں گے اور اس کے کہنے والے فرشتہ ہوں گے۔نہ میت کے پاس والے۔فرشتہ عذاب کے اور رحمت کے آپس میں پوچھیں گے کہ رحمت کے فرشتے روح کو آسمان پر لے چڑھیں گے یا عذاب کے۔وَالْتَفَّتِ السَّاق بالساق - حضرت عباس فرماتے ہیں۔نزع روح کے وقت دنیا کا آخر اور آخرت کا اول وقت ملتا ہے۔یہی لف ساقين ہے۔حسن کہتے ہیں لفّ ساقین سے مراد کفن کا پنڈلیوں میں لپیٹنا مراد ہے۔ایک قول یہ بھی ہے کہ لف ساق اصطلاح میں شدت مصیبت سے کنایہ ہے۔دنیا کی مفارقت کا غم اور آخرت کے حساب و کتاب کا جھگڑا۔یہ دونوں مل کر لی ساقین ہے۔ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۱ نمبر ۲۶ مورخه ۴ را پریل ۱۹۱۲ ء صفحه ۲۹۷) ۳۲، ۳۳- فَلَا صَدَّقَ وَلَا صَلَّى وَلَكِنْ كَذَّبَ وَتَوَلَّى - جمہ۔نہ تو تصدیق کی، نہ نماز پڑھی۔بلکہ جھٹلاتا اور منہ پھیرتا رہا ہے۔تفسیر۔فَلَا صَدَقَ وَلَا صَلى - تصدیقِ رسول کو نماز پر بھی مقدم رکھا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں۔نماز می کنی و قبله را نمی دانی ندانمت چه غرض زیں نماز با باشد جماعت میں جن احباب کو غیر احمدیوں کی امامت کے مسئلہ میں تحقیق منظور ہو۔وہ اس آیت میں صلوۃ پر تصدیق کے مقدم ہونے پر غور کریں۔بعد تصدیق رسول یا امام زمان کے پہلی بات جس کا یوم القیامۃ حساب ہوگا وہ نماز ہے۔حدیث شریف میں ہے۔اولُ مَا يُحَاسَبُ بِهِ الْعَبْدُ مِنْ أَعْمَالِهِ الصَّلوةَ لے تو نماز پڑھتا ہے لیکن قبلہ کا تجھے معلوم نہیں۔تو نہیں جانتا کہ ان نمازوں کی کیا غرض ہے۔