حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 77
حقائق الفرقان LL سُوْرَةُ الْقِيمَةِ حرام زادہ ہو گیا مگر تم جو اوروں کی برسوں تک مصیبت اٹھا اٹھا کر جمع کی ہوئی دولت کو چرا لاتے ہو۔بے ایمان اور حرام زادے نہیں ؟ اس کا جواب مجھے کسی نے کچھ نہیں دیا ! اسی طرح میں نے ایک کنچن سے پوچھا کہ تم اس پیشے کو برا نہیں سمجھتے ؟ کہا۔کہ نہیں ! میں نے کہا کہ اپنی بیوی سے زنا کراسکتے ہو؟ کہا کہ غیر کی لڑکی کو خراب کرنا اچھا نہیں ! میں نے کہا کہ تم نے خراب کا لفظ بولا ہے۔بھلا یہ تو بتاؤ جولوگ تمہارے یہاں زنا کرنے کے لئے آتے ہیں۔کیا ان کے نزدیک وہ غیر کی لڑکی نہیں ہوتی ؟ قیامت کے ثبوت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَلَا أُقْسِمُ بِالنَّفْسِ اللُّوامَةِ۔اگر جزا سزا نہ ہوتی تو نفس لوامہ تم کو ملامت ہی کیوں کرتا نفس لوامہ قیامت کا ثبوت ہے۔کیا انسان یہ خیال کرتا ہے کہ ہم ہڈیوں کو جمع نہیں کر سکتے اور ہڈیاں تو الگ رہیں ہم تو پوروں کی ہڈیوں کو بھی جمع کر دیں گے۔بلی قادِرِينَ عَلی آن نُسَوِی بَنَانَہ ہر ایک آدمی جب بدی کرتا ہے تو وہ اس کو بدی سمجھتا ہے۔تب ہی تو اس کو غالبا چھپ کر کرتا ہے۔ایک شہر میں ایک بڑا آدمی تھا۔مجھ سے اس کی عداوت تھی۔مجھے خیال آیا۔میں اس کے پاس گیا۔وہاں لوگ جمع تھے۔جوں جوں لوگ کم ہوتے جاتے تھے۔میں آگے بڑھتا جاتا تھا۔جب سب لوگ چلے گئے۔اور دو آدمی ایک اس کا منشی اور ایک اور شخص جو کہ میرے دوست تھے رہ گئے تو اس نے میری طرف دیکھا اور کہا کہ آج آپ کیسے آئے ہیں۔میں نے کہا کہ میں اس لئے آیا ہوں کہ آپ لوگوں کو نصیحت کر نیوالا کوئی نہیں۔کوئی ناصح تو آپ کو نصیحت نہیں کر سکتا۔کیونکہ آپ بڑے آدمی ہیں مگر ہر ایک بڑے آدمی کے لئے اس کے شہر میں کچھ کھنڈرات اس کے لئے ناصح ہوتے ہیں۔کیا آپ کے پاس کوئی ایسی یاد گار نہیں؟ اس نے کہا کہ مولوی صاحب میرے آگے آئیے۔میں بہت آگے بڑھا وہ مجھ کو اس کھڑکی کے بالکل پاس لے گیا۔جس میں بیٹھا کرتا تھا۔مجھے کہنے لگا کہ اور آگے ہو جیئے۔میں اور آگے بڑھا۔اس نے پھر کہا اور آگے ہو جیئے۔اور آگے تو کیا ہوتا۔میں نے اس کھڑکی میں اپنے سر کو بہت قریب کر دیا۔اس نے کہا کہ یہ جو آپ کے سامنے ایک محراب دار دروازہ