حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 76 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 76

حقائق الفرقان ۷۶ سُوْرَةُ الْقِيمَةِ نے قرآن کریم کو نازل فرمایا ہے۔مسیحی لوگوں کو ایک غلطی لگی ہے۔پولوس کے خط میں ہے کہ یہ شریعت اس وجہ سے نازل ہوئی ہے کہ وہ ثابت کرے کہ تم شریعت کی پابندی نہیں بجالا سکتے۔گویا شریعت کو نازل کر کے انسان کی کمزوری کا اس پر اظہار کرتا تھا اس لئے پلید تعلیم دی گئی کہ نجات کی راہ شریعت کو نہ مانو۔بلکہ کسی اور شے کو مانو۔میں نے بعض مشنریوں سے پوچھا ہے کہ جب شریعت کی پابندی تم سے نہیں ہو سکتی۔تو تمہارے جو اور قوانین ہیں۔ان کی پابندی تم کیسے کرتے ہو۔ہر ایک انسان جب بدی کرتا ہے تو اس بدی کے بعد اس کا دل اس کو ملامت کرتا ہے ہر سلیم الفطرت اس بات کی تصدیق کرے گا کہ ہر بدی کے ارتکاب کے بعد اس کا دل اس کو ملامت کرتا ہے کہ تو نے یہ کام اچھا نہیں کیا۔گوکسی وقت ہو۔میں نے لوگوں سے اور اپنے نفس سے بھی پوچھا ہے۔چنانچہ جواب اثبات میں ملا۔چور کو چوری کے بعد ایسی ملامت ہوتی ہے کہ وہ چوری کے اسباب کو اپنے گھر میں نہیں رکھ سکتا۔اسی طرح ڈا کہ ڈالنے والے اور قاتل دونوں ارتکاب جرم کے بعد کہیں بھاگنا چاہتے ہیں۔اسی طرح جھوٹا آدمی جھوٹ بولتا ہے تو جھوٹ کے بعد اس کو ملامت ہوتی ہے کہ یہ بات ہم نے جھوٹ کہی۔غرض ہر بدی کے بعد ایک ملامت ہوتی ہے۔جس بدی کو انسان کرتا ہے اسی بدی کے متعلق اگر اس سے تفتیش کی جائے تو ایک حصہ میں چل کر وہ منکر ہو جاتا ہے۔میں نے بعض چوروں سے پوچھا ہے کہ اعلیٰ درجہ کی چوری میں مال پر ہاتھ تو مشکل سے پہنچتا ہے۔پھر کسی کے ہاتھ سے نکلواتے ہو۔کسی کے سر پر رکھتے ہو۔کسی سنار کو دیتے ہو کہ وہ زیورات وغیرہ کی شکل و ہیئت کو تبدیل کر دے۔اس نے کہا کہ ایسا ہوتا ہے کہ ہم سنار کو سو روپے کی چیزیں پچھتر روپے میں دیتے ہیں۔میں نے کہا کہ اگر وہ سوروپے کی چیز ساٹھ روپے میں رکھ لے تو پھر تم کیا کرو۔تو مجھے جواب دیا کہ ایسے حرام زادے بے ایمان کو ہم اپنی جماعت سے نکال دیں گے۔میں نے کہا کہ وہ بے ایمان بھلا کیسے ہوا ؟ کہنے لگا کہ چوری ہم کریں۔مصیبت ہم اٹھا ئیں اور مال وہ کھا جائے۔تو پھر بھی اگر بے ایمان نہ ہوا تو اور کیا ہو گا! میں نے کہا۔اچھا وہ سنار تو صرف تمہاری اتنی ہی سی مشقت برداشت کی ہوئی دولت کو غبن کر کے بے ایمان اور۔