حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 75
حقائق الفرقان ۷۵ سُوْرَةُ الْقِيمَةِ شروع کیا۔اس قسم کا محاورہ ہر زبان میں ہوا کرتا ہے۔جس کو مخاطب سخن بلا شک و شبہ پہچان لیتا ہے کہ یہ ”لا“ میرے مافی الضمیر کا رد ہے۔اس کے یوم القیامہ اور نفس لوامہ کو بعث بعد الموت پر اس طور سے گواہ ٹھہرایا ہے کہ یوم القیام سے جنگ کی مصیبت کا دن اور اپنے نفس پر کفار کی ملامت کا اعتراف ثبوت دعوی بن گیا۔دنیا میں جنگ کے لئے محشور ہونا آخرت کے حشر کے لئے اور دنیا کی شکستوں پر اپنے نفسوں کو ملامت کرنا آخرت کے جزاوسزا کے لئے ثبوت ٹھہرا۔قيامة۔کھڑا ہونا۔ا - مَنْ مَاتَ فَقَدْ قَامَ قِيَامَتُهُ۔قوم کی قیامت۔جیسا کہ بنوامیہ پر سوسال کے بعد قیامت آئی۔اور وہ زبان عربی کے بولنے والے حکام پر قیامت تھی۔إِنَّ يَوْمًا عِنْدَ رَبِّكَ كَالْفِ سَنَةٍ - (الحج: ۴۸) - حدیث شریف میں آیا ہے۔کیا میری امت آدھا دن نہ کاٹے گی۔اہلِ اسلام کا عروج قریب پانچ سوسال رہا۔-۴ ہزار سال کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں بہت رؤ لا پڑ گیا۔یہ بھی ایک قیامت ہے۔۵- يَوْمُ السَّاعَةِ - يَوْمُ الْقِيَامَةِ - مصیبت کے وقت کو بھی کہتے ہیں۔(ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۱ نمبر ۲۶ مورخه ۴ را پریل ۱۹۱۲ء صفحه ۲۹۶) اس سورۃ شریف میں اللہ تعالیٰ ایک فطرت کی طرف لوگوں کو توجہ دلاتا ہے۔قرآن کریم کو اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے۔مطلب یہ کہ تمہاری فطرتوں میں سب قسم کی نیکیوں کے بیچ بودیئے تھے۔ان کو یاد دلانے اور ان کی نشوونما کے لئے قرآن کریم کو نازل کیا۔وہ جو فطرتوں کا خالق ہے اس لے جو مر گیا اس کی قیامت قائم ہو گئی۔۲ بے شک ایک دن تیرے رب کے نزدیک ایک ہزار برس کے برابر ہے۔