حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 70
حقائق الفرقان ۷۰ سُورَةُ الْمُدَّيْرِ شان ہے کہ اس سے ڈرنا چاہئے اور وہی بخشش فرمانے کے لائق ہے۔ تفسیر معدوم کو موجود کرنا خدا کا کام ہے مخلوق میں ۔ ہاں حیوان اور انسان کے دل میں کسی ارادے اور مشیت کا پیدا کر دینا بیشک باری تعالیٰ کا کام ہے۔ الا ہر ایک منصف جانتا ہے کہ صرف مشیت اور ارادے کے وجود سے کسی فعل کا وجود ضروری اور لازمی امر نہیں۔ یقیناً قوائے فطری کا خلق اور عطا کرنا جن پر ہر گونہ افعال کا وجود و ظہور مترتب اور متفرع ہو سکتا ہے۔ خالق ہی کا کام ہے۔ اس لطیف نکتے کے سمجھانے کے لئے اور نیز اس امر کے اظہار کرنے کو کہ قوائے طبعی اور کائنات سے کوئی وجود اصل امر خلق میں شریک نہیں ۔ سب اشیاء کی علة العلل میں ہی ہوں۔ باری تعالیٰ سب افعال کو بلکہ ان افعال کو بھی جو ہم معائنے اور مشاہدے کے طور پر انسان اور حیوان سے سرزد ہوتے لو دیکھتے ہیں۔ اپنی طرف نسبت کرتا ہے۔ کہیں قرآن میں فرماتا ہے ۔ ہوا بادلوں کو ہانک لاتی ہے۔ کہیں فرماتا ہے۔ ہم بادلوں کو ہانکتے ہیں۔ ہم ہی گایوں اور بھینسوں کے تھنوں میں دودھ بناتے ہیں۔ ہم ہی اناج بوتے ہیں ۔ ہم ہی کھیت اگاتے ہیں۔ اور تامل کے بعد یہ سب نسبتیں جو ظاہراً متضاد الطرفین ہیں ۔ بالکل صحیح اور حقیقہ بالکل صداقت ہیں ۔ فصل الخطاب المقدمه اهل الكتاب الکتاب حصہ دوم صفحه ۳۲۰) هُوَ أَهْلُ التَّقْوى وَ اَهْلُ الْمَغْفِرَةِ - هُوَ کو مقدم اس لئے رکھا کہ سوائے ذات اللہ تبارک و تعالیٰ کے دوسرا کوئی اہل نہیں کہ اس پر جان فدائی کی جاوے جیسے فرمایا ۔ هُوَ الْحَيُّ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ (المومن : ۶۶ ) تقوی کے ساتھ مغفرت کو اس لئے قرین رکھا کہ ہر نبی ولی نے تقوی کی تیز اور خونخوار راہوں میں اپنی بشری کمزوریوں کا اعتراف کیا ہے۔ حضرت اقدس مرحوم و مغفور عليه الصلوة والسلام فرماتے ہیں۔ در کوئے تو گر سرِ عشاق راز نند اول کسے کہ لاف تعشق زند منم (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۱ نمبر ۲۶ مورخه ۴ را پریل ۱۹۱۲ صفحه ۲۹۵) ے اگر کبھی تیرے کوچہ میں عاشقوں کی گردن کاٹی جائے گی تو سب سے پہلے جو عشق کا دعویٰ کرے گا وہ میں ہوں گا۔