حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 67 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 67

حقائق الفرقان ۶۷ سُوْرَةُ الْمُدرِ تمام قرآن کریم اور حدیث نبی رؤف الرحیم میں سے یہ بات نکال دیجئے۔کہاں اسلام نے کہا ہے کہ خدا پانچ چھ ہزار سال سے خالق ، رازق ، مالک ، رحیم ، عادل اور قادر مطلق ہے۔خدا کے واسطے کچھ تو خوف الہی کو دل میں جگہ دو! عدالت الہی کا دھیان کرو! صرف نیشنیلٹی اور صرف دنیوی پالیسی کس کام آوے گی۔باری تعالیٰ عالم الغیب اور انتر یامی اور عادل ہے۔علیم بذات الصدور ہے۔راستی پر اپنے فضل سے آرام کا داتا ہے۔مسلمان تو اللہ تعالیٰ کو ہمیشہ سے خالق ، رازق ، مالک، عادل ، رحیم ، قادر یقین کرتے ہیں۔بلکہ ایک جم غفیر مسلمانوں کا عینیت صفات کا قائل ہے جس سے صاف عیاں ہے کہ صفات اپنے موصوف سے علیحدہ نہیں ہوسکتیں گورا تم عینیت صفات کا قائل نہیں۔مگر یہ اعتقا در رکھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی صفات سے کبھی خالی نہیں ہوسکتا۔بلکہ کوئی موصوف کسی وقت اپنے لازمہ صفات سے خالی نہیں ہو سکتا۔اگر اللہ تعالیٰ کا خالق رازق ہونا بلحاظ انسانی پیدائش کے آپ لیتے ہیں۔تو بتائیے مہا پر لے کے وقت انسان کہاں ہوتے ہیں۔جن کا وہ خالق رازق ہوتا ہے۔ہم زیادہ بحث نہیں کرتے۔پانچ چھ ہزار برس سے کل مخلوق کی پیدائش کا زمانہ بلکہ انسانی پیدائش کا زمانہ قرآن کریم یا حدیث نبی رحیم سے نکال دیجئے۔پس اسی پر فیصلہ ہے تعجب ہے کہ آپ نے خود صفحہ ۲۳ میں ارقام فرمایا ہے۔یہ امر مسلم فریقین ہے کہ پر میشور اور اس کی سب صفات اور علم اور ارادہ قدیم ہیں۔اس واسطے اس پر بحث کی ضرورت نہیں۔پھر میں کہتا ہوں۔اگر یہ بات مسلم فریقین ہے۔تو آپ نے صفحہ ۲۲ میں کس بناء پر اسلام کو الزام لگایا کہ محمدی پانچ ہزار سال سے اللہ تعالیٰ کو خالق رازق جانتے ہیں۔غرض اسلام تو اللہ تعالیٰ کی اتنی مخلوق کا قائل ہے جو حد و شمار سے باہر ہے۔دیکھو قرآن کریم میں صاف موجود ہے۔وَمَا يَعْلَمُ جُنُودَرَبَّكَ إِلَّا هُوَ المدثر: ٣٢ وَلَا يُحِيطُونَ بِشَيْءٍ مِّنْ عِلْمِهِ(البقرة:۴۵۶) اور اسلامیوں کی مسلم الثبوت اور اعلیٰ درجہ کی کتاب صحیح بخاری میں كَانَ اللهُ غَفُورًا رَّحِيمًا کے لے تیرے رب کے لشکروں کو سوائے اس کے کوئی نہیں جانتا۔ہے اس کے کسی قدر علم کا بھی احاطہ نہیں کر سکتے۔