حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 59
حقائق الفرقان ۵۹ سُوْرَةُ الْمُدَّثِرِ کرایا اور یہ اس لئے کہ انسان جب ایک مسئلہ کو عمدہ سمجھ لیتا ہے تو علم بڑھتا ہے اور علم سے خدا کے ساتھ محبت بڑھتی ہے۔پھر اَشْهَدُ اَنْ لَّا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَاشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ کہا جاتا ہے جس کے معنے ہیں کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ ہی معبود ہے۔اور گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں۔پھر جس طرح خدا نے حکم دیا اُس طرح اس کی کبریائی بیان کر۔جس طرح اس نے حکم دیا اسی طرح نماز پڑھ۔اور اسی طرح اس سے دعائیں مانگ۔پھر یہ طریق کس طرح سیکھنے چاہیے۔وہ ایک محمد ہے صلی اللہ علیہ وسلم اور وہ خدا کا بھیجا ہوا ہے۔اس سے جا کر سیکھو پھر جب ان احکام کی تعمیل میں تو مستعد ہو جاوے تو حیی علی الصلوۃ آنماز پڑھ کہ وہ تجھے بدی سے روکے۔پھر نماز کی معانی سیکھنا کوئی بڑی بات نہیں۔کو دن سے کو دن آدمی ایک ہفتہ میں یاد کر لیتا ہے۔ایک امیر میرا مربی تھا۔اس کے دروازہ پر ایک پوربی شخص صبح کے وقت پہرہ دیا کرتا تھا۔ایک دن جو وہ صبح کی نماز کو نکلے تو وہ خوش الحانی سے گا رہا تھا۔کہا۔تم یہاں کیوں کھڑے ہو۔جواب دیا کہ پہرہ دار ہوں۔انہوں نے کہا۔اچھا تمہارا پہرہ دن میں دو گھنٹہ کا ہوتا ہے۔ہم تمہارا پہرہ پانچ وقت میں بدل دیتے ہیں۔تم تھوڑی تھوڑی دیر کے واسطے آ جایا کرو۔اور نماز کے وقت میں پانچوں وقت اس کے وقت کو تقسیم کر دیا اور اس وقت جاتے جاتے اس کو بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ کے معنے سکھا دئے کہ میری واپسی پر یاد رکھنا۔چنانچہ جب وہ نماز صبح پڑھ کر واپس آئے تو اس نے یاد کر لئے تھے۔آ کر اس کو رخصت دیدی۔پھر الحمد شریف کے معنے بتا دئے۔غرض عشاء کی نماز تک آنحمد اور قل کے معنے اُس نے پورے یاد کر لئے۔ایک دفعہ کچھ عرصہ کے بعد اس کا پہرہ پچھلی رات میرے مکان پر تھا۔میں نے سنا کہ وہ بارہویں پارہ کو پڑھ رہا تھا۔غرض دریافت پر کہا کہ تھوڑا تھوڑا کر کے بارہ سپارہ بامعنی یاد کر لئے ہیں۔پس قرآن کا پڑھنا بہت آسان ہے۔نماز گناہ سے روکتی اور گناہ سے رکنے کا علاج ہے۔مگر سنوار کر پڑھنے سے۔غافل سوتے ہوئے اٹھ کر نجات کے طالب بنو۔اور اذان کی آواز پر دوڑو۔وَثِيَابَكَ فَطَهِّرُ۔ہاں بلانے والا پہلے اپنا دامن پاک کرے۔پھر کسی کو بلا وے۔جب اذان سن لے تو درود پڑھے کہ یا اللہ ہمارے نبی نے کس جانفشانی اور محنت اور ہوشیاری سے خدا کی تکبیر سکھلائی