حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 58 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 58

حقائق الفرقان ۵۸ سُوْرَةُ الْمُدرِ طرف حکم ہے کہ ناجائز مال مت کھاؤ۔ایک طرف عفت اور عصمت کا حکم ہے۔دوسری طرف بی بی موجود نہیں ناصح کوئی نہیں۔اور نفس چاہتا ہے کہ عمدہ گوشت ، گھی ،انڈے ، زعفرانی متنجن ، کباب کھانے کے واسطے ہوں۔پھر رمضان میں اس سے بھی کچھ زیادہ ہوں۔اب بی بی تو ہے نہیں۔علم اور عمدہ خیالات نہیں پس اگر خدا کے حکم کے خلاف کرتا اور نفس کی خواہش کے مطابق عمدہ اغذیہ کھاتا تو لواطت ، حلق ، زنا ، بدنظری میں مبتلا ہوگا۔اسی لئے تو اصفیاء نے لکھا ہے کہ انسان ریاضت میں سادہ غذا کھاوے۔اس لئے ہمارے امام علیہ السلام نے میاں نجم الدین کو ایک روز تاکیدی حکم دیا کہ لوگ جو مہمان خانہ میں مجرہ د ہیں عام طور پر گوشت ان کو مت دو بلکہ دال بھی پہلی دو۔اور بعض نادان اس ستر کو نہیں سمجھتے اور شور مچاتے ہیں۔پس رسول کریم نے وہ اللہ اکبر مکانوں اور چھتوں اور دیواروں اور منبروں پر چڑھ کر سنا یا پس شہوت اور غضب کے وقت بھی اس کو اکبر ہی سمجھو۔ایک شخص کو کسی شخص نے کہا کہ تو جھوٹا ہے۔وہ بہت سخت ناراض ہوا اور اس کی ناراضی امام کے کان تک پہنچی۔آپ ہنس پڑے اور فرمایا۔کاش کہ اس قدر غضب کو ترقی دینے کی بجائے اپنے کسی جھوٹ کو یاد کر کے اس کو کم کرتا۔حرص آتی اور اس کے واسطے روپیہ کی ضرورت ہوتی اور ضرورت کے وقت حلال حرام کا ایک ہی چھرا چلا بیٹھتا ہے ایسا نہیں چاہیے۔ایک طرف عمدہ کھانا۔عمدہ نہیں چاہتا۔دوسری طرف حکم کے خلاف ورزی، سستی کرتا اور یہ دونوں آپس میں نقیض ہیں۔اس سے عجز اور کسل پیدا ہوتا ہے پس ایسی جگہ میں شہوت پر عفت اور حرص پر قناعت اختیار کرے اور مال اندیشی کر لیا کرے۔مال کی تحصیل میرے نزدیک سہل اور آسان امر ہے۔ہاں حاصل کر کے عمدہ موقع پر خرچ کرنا مشکل امر ہے۔پس ایک طرف خدا شناسی ہو اور دوسری طرف مخلوق پر شفقت ہو۔اللہ اکبر کا حصول۔چار دفعہ تم اذان کے پہلے ہر نماز میں سنتے ہو۔اور سترہ دفعہ امام تم کو نماز میں سناتا ہے۔پھر حج میں ، عید میں ، رسول کریم نے کیسی حکم الہی کی تعمیل کی ہے کہ ہر وقت اس کا اعادہ