حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 57 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 57

حقائق الفرقان ۵۷ سُوْرَةُ الْمُدرِ چاہتا کہ میرا نوکر میرے کام میں سست ہو۔پر جس کا یہ نوکر ہے۔کیا اس کے کام میں سستی نہیں کرتا ؟ دوکاندار ہے، طبیب ہے وغیرہ وغیرہ۔جب پیسہ دینے والے کے دل میں یہ ہے کہ مجھے ایسا مال اس قیمت کے بدلہ میں ملنا چاہیے۔اگر اس کو اس نے نتیجہ تک نہیں پہنچایا تو ضرور حرام خوری کرتا ہے اور یہ سب باتیں اس وقت موجود تھیں۔خدا کی پرستش میں ایسے ست تھے کہ حقیقی خدا کو چھوڑ کر پتھر ، حیوانات وغیرہ مخلوقات کی پرستش شروع کی ہوئی تھی۔اس قوم کی بت پرستی کی نظیریں اب موجود ہیں۔ابھی ایک بی بی ہمارے گھر میں آئی تھی اور میرے پاس بیان کیا گیا کہ بہت نیک بخت اور خدا رسیدہ ہے۔میں نے اُس سے پوچھا کہ کیا وظیفہ کرتی ہو؟ کہا مشکل کے وقت اپنے پیروں کو پکارتی ہوں۔پس مجھے خیال ہوا کہ یہ پہلی سیڑھی پر خطا پر ہے یعنی خدا کو چھوڑ کر شرک میں مبتلا ہے۔پس رسول کریم کے زمانہ میں ایک طرف خدا کی بڑائی دوسری طرف مخلوق سے شفقت چھوٹ گئی تھی۔اور خدا کی جگہ مخلوق کو خدا بنایا گیا تھا۔اور مخلوق کو سکھ پہنچانے کے بدلے لاکھوں تکالیف پہنچائی جاتی تھیں۔اس لئے فرمایا۔انذِرُ۔ڈرانے کی خبر سنا دے۔جب مرسل اور مامور آتے ہیں تو پہلے یہی حقوق ان کو سمجھائے جاتے ہیں۔پس ایسے وقت میں امراض طاعون وغیرہ آتے ، جنگ و قتال ہوتے۔یہ ضرورت نہیں کہ اس مامور کی اطلاع پہلے دی جاوے یا ان لوگوں کو مامور کا علم ہو۔کیونکہ لوگ تو پہلے خدا ہی کو چھوڑ بیٹھے ہوئے ہوتے ہیں۔پھر کھڑا ہو کر کیا کرو۔وَ رَبَّكَ فَكَيْرُ۔خدا کی بزرگی بیان کر۔یہ حکم کی تعمیل تھی اسنبر سے آگے بڑائی کا کوئی لفظ نہیں اور اس کے معنے ہی یہی ہیں۔ایک وقت آقا کہتا کہ میرا فلاں کام کرو۔دوسری طرف ایک شخص پکارتا کہ اللہ اکبر۔آؤ نماز پڑھو۔خدا سے بڑا آقا کوئی نہیں۔ایک طرف بی بی عید کا سامان مانگتی ہے۔دوسری طرف خدا کہتا کہ فضولی نہ کر۔اب یہ کدھر جاتا ہے۔نیک معاشرت، نیک سلوک ، بی بی کی رضا جوئی اور خوش رکھنے کا حکم ہے اور مال جمع کرنے کی ضرورت ہے۔دوسری