حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 56
حقائق الفرقان ۵۶ سُوْرَةُ المُدرِ اثر ہوا ہوگا کہ وہ کانپ گیا ہوگا کہ میرا بادشاہ آیا ہے۔کوئی حرکت مجھ سے ایسی نہ ہو جاوے جس سے یہ ناراض نہ ہو جاوے۔غرض کہ اس پر از حد اثر ہوا ہو گا۔پس یہی حال ہوتا ہے۔انبیاء و مرسل علیہم السلام کا۔کیونکہ خوف اور لرزہ معرفت پر ہوتا ہے۔جس قدر معرفت زیادہ ہوگی اسی قدر اس کو خوف اور ڈر زیادہ ہو گا اور وہ معرفت اس کو خوف میں ڈالتی ہے اور اس لرزہ کے واسطے ان کو ظاہری سامان بھی کرنا پڑتا ہے۔یعنی موٹے اور گرم کپڑے پہنے پڑتے ہیں۔جو لرزہ میں مدددیں۔جب وہ انعام کی حالت جاتی رہی تو ان کے اعضاء اور اندام بلکہ بال بال پر ایک خاص خوبصورتی آجاتی ہے۔پس اسی حالت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ مخاطب فرما کر کہتا ہے کہ اے کپڑا اوڑھنے والے اور لرزہ کے واسطے سامان اکٹھا کرنے والے کھڑا ہو جا۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ست مومن اللہ تعالیٰ کو پیارا نہیں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہلا حکم یہی ملا پس یہی وجہ ہے کہ آج تک مسلمان واعظ جب احکام الہی سنانے کے واسطے کھڑے ہوتے ہیں تو کھڑے ہو کر سناتے ہیں۔یہ اسی قسم کی تعمیل ہوتی اور اس میں نبی کریم کی اتباع کی جاتی ہے۔بعض لوگ غافل اور سست نہ تو سامان بہم پہنچاتے اور نہ ان سامان سے کام لیتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ ہمیں فرصت نہیں پر یہ ساری ضرورتیں جو ہم کو ہیں۔نبی کریم کو بھی تھیں۔بیوی بچہ ، اہل و عیال وغیرہ وغیرہ۔پر جب اس قسم کا حکم آیا۔فوراً کھڑے ہو گئے۔اس لئے که بادشاه رَبُّ الْعَالَمِيْنِ أَحْكَمُ الْحَاکمین کا حکم تھا۔پھر کام کیا سپر دہوا۔انذڈ۔لوگ دو باتوں میں گرفتار تھے اور ہیں۔اول خدا کی عظمت کو چھوڑ بیٹھے تھے اور کھانے پینے عیش و آرام اور آسائش میں مصروف ہو گئے تھے۔دوسرا باہمی محبت ، اخلاص ، پیار نام کو نہیں رہی تھی۔دوسروں کے اموال دھوکہ بازی سے کھا جاتے۔جیسے مثلاً ہمارے پیشہ کی طرف ہی توجہ کرو۔گندے سے گندے نسخے بڑی بڑی گراں قیمتوں سے فروخت کئے جاتے اور دھوکہ بازی سے لوگوں کا مال کھایا جاتا ہے۔دوسروں کی عزت ، مال ، جان پر بڑے بے باک تھے۔حدیث شریف میں آیا ہے کہ کسی نابینا کی لکڑی ہنسی سے اٹھا لینا کہ وہ حیران وسرگردان ہو سخت گناہ ہے۔پھر ہنسی ٹھٹھا پر کچھ پرواہ نہیں۔بد نظری ، بدی ، بدکاری سے پر ہیز نہیں۔کوئی شخص نہیں