حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 55
حقائق الفرقان سُوْرَةُ الْمُدَّثِرِ سُوْرَةُ الْمُدَّثِرِ مَكِيَّة بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ - ہم سورہ مدثر کو پڑھنا شروع کرتے ہیں اس اللہ کے نام سے جس نے عاشقوں کو پہلے ہی سے سمجھ دے رکھی ہے اور ان کو سچی کوشش کا بدلہ دینے والا ہے۔۲ تا ۵ - يَاَيُّهَا الْمُدَّتِرُ - قُم فَاَنْذِرُ - وَرَبَّكَ فَكَبِّرُ - وَثِيَابَكَ فَطَهِّرُ - ترجمہ۔اے خلعت نبوت پہنے والے (چادر پوش)۔اٹھ اور لوگوں کو ڈرا۔اور اپنے رب کی بڑائی بیان کر۔اور اپنا لباس صاف وستھرا رکھ۔تفسیر۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہلی وحی کے بعد جو دوسری وحی ہوئی وہ یہی آیت ہے۔یایھا المدقر - قم - مرسل کو جب وحی ہوتی ہے تو خدا کی کلام اور اس کی ہیبت کا ایک لرزہ مرسل پر آتا ہے۔کیونکہ مومن حقیقت میں خدا تعالیٰ کا ڈر اور خشیت اور خوف رکھتا ہے۔جس طرح کوئی بادشاہ ایک بازار یا سڑک پر سے گزرتا ہے۔اس سڑک میں ایک زمیندار جاہل جو بادشاہ سے بالکل ناوقف ہے کھڑا ہے۔دوسرا وہ شخص ہے جو نہ زمیندار ہے۔پر صرف اس قدر جانتا ہے کہ یہ کوئی بڑا آدمی ہے یا شاید حاکم وقت ہوگا۔تیسرا وہ شخص کھڑا ہے کہ وہ منجملہ اہالیان ریاست ہے اور خوب جانتا ہے کہ یہ بادشاہ ہے اور ہمارا حاکم ہے اور چوتھا وہ شخص کھڑا ہے جو بادشاہ کا درباری یا وزیر ہے۔اس کے آداب وقواعد و آئین و انتظام رعب و آداب، رنج اور خوشی کے سب قواعد کا واقف اور جاننے والا ہے۔پس تم جان سکتے ہو کہ ان چاروں اشخاص پر بادشاہ کی سواری کا کیا اثر ہوا ہو گا۔پہلے شخص نے تو شاید اس کی طرف دیکھا بھی نہ ہو۔اور دوسرے نے کچھ تو جہ اس کی طرف کی ہوگی اور تیسرے نے ضرور اس کو سلام بھی کیا ہوگا اور اس کا ادب بھی کیا ہوگا۔پر چوتھے شخص پر اس کے رعب و جلال کا اس قدر