حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 47 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 47

حقائق الفرقان ۴۷ سُوْرَةُ الْمُؤْمِلِ تھے۔پیدائش ۲۵ باب لغایت ۹۔حل الا شکال میں اس پیشین گوئی پر اعتراض کیا کہ بشارت میں تجھ میں سے“ کا لفظ وارد ہے۔جواب: (۱) خدا کے اس کلام میں جو موسیٰ نے نقل کیا یہ لفظ نہیں۔(۲) یہ لفظ " تجھ میں سے اعمال باب ۳۔۲۲ میں نہیں۔(۳) یونانی ترجمے میں نہیں۔دوسرا اعتراض: مسیح نے اس بشارت کو اپنی طرف نسبت کیا۔جواب: (۱) چونکہ مسیح بقول آپ کے مصلوب و مقتول ہوئے تو اس کے مصداق نہ رہے۔(۲) اس بشارت کو مسیح نے بالتخصیص اپنی طرف نسبت نہیں کیا۔دیکھو۔یوحنا باب ۵۔۴۶ تخصیص بشارت کا پتہ ہی نہیں دیا۔اور یوں ہی گول مول رہنے دیا۔(۳) صاحب حل الاشکال نے میزان میں فصل ۳۔باب ۲ میں لکھا ہے کہ پیدائش باب ۳۔۱۵ میں مسیح کی بشارت ہے۔پھر یہی یوحنا باب ۵۔۴۶ میں کیوں نہیں۔(۴) یوحنا باب ۱۔۲۰۔۲۵۔اور اس نے اقرار کیا اور انکار نہ کیا۔بلکہ اقرار کیا کہ میں مسیح نہیں تب انہوں نے اس سے پوچھا کہ تو اور کون؟ کیا تو الیاس ہے اس نے کہا میں نہیں ہوں۔پس آیا تو وہ نبی ہے۔اس نے جواب دیا نہیں۔یوحنا انجیلی۔یوحنا بپتسمہ دینے والے کی شہادت میں لکھتا ہے کہ نہ وہ مسیح ہے نہ ایلیا نہ وہ نبی اور ریفرنس میں وہ نبی کا نشان استثناء باب ۱۸ - ۱۵ و ۱۸ دیا ہے یعنی موسی کے مثل نبی۔اور وہ صرف نبی عربی ہے۔پادری عمادالدین نے تحقیق الایمان میں اور پادری ٹھا کر داس نے ” عدم ضرورت قرآن“ میں مماثلت پر گفتگو کی ہے اور بہت ہاتھ پاؤں مارے ہیں۔جسے دیکھ کر ان کی نا کامیاب کوششوں پر سخت افسوس آتا ہے پادری عمادالدین نے بچوں کا قتل ، چالیس دن کا روزہ ، معجزات اور شریعت روحانی (معدوم الوجود ) بمقابلہ شریعتِ موسوی کے وجہ مماثلت ٹھہرائی ہے۔