حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 46 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 46

حقائق الفرقان ۴۶ سُوْرَةُ الْمُزَّمِّلِ جاوے گا۔ بلکہ سب نبیوں نے سموئیل سے لیکر پچھلوں تک جتنوں نے کلام کیا۔ اُن دنوں کی خبر دی ہے۔ تم نبیوں کی اولاد اور اس عہد کے ہو کہ خدا نے باپ دادوں سے باندھا ہے جب ابراہام سے کہا کہ تیری اولاد سے دنیا کے سارے گھرانے برکت پاویں گے ۔ تمہارے خدا نے اپنے بیٹے یسوع کو اٹھا کے پہلے بھیجا کہ تم میں سے ہر ایک کو اُس کی بدیوں سے پھیر کے برکت دے“ اس سے کئی باتیں ظاہر ہوتی ہیں ۔ اول : مسیح کی آمد اول کے بعد اور آمد ثانی سے پہلے اس پیشین گوئی کا پورا ہونا ضروری ہے۔ دوم : موسی کے بعد یوشع اور اس کے بعد کے انبیاء اور سموئیل سے لے کر پچھلوں تک کوئی بھی اس کا مصداق نہیں ہوا۔ سوم: حضرت ابراہیمؑ کی دعا کو سوائے ارسال ان انبیاء کے جو بنی اسرائیل میں سے مرسل ہوئے کوئی خاص خصوصیت اُس نبی سے ہے۔ چہارم: مسیح اُس نبی سے پہلے آیا اب اُس دوسرے کی ضرورت ہوئی ۔ پنجم : حواری کے قول سے ظاہر ہے کہ اس بشارت کا مصداق نبی مسیح سے پہلے نہیں گزرا اور خود مسیح بھی نہیں۔ اس لئے اس نبی کے آنے تک ضرور ہے کہ آسمان مسیح کو لئے رہے۔ سوال : اگر کوئی شخص کہے کہ بنی عیسو اور بنی قطورا کیوں اس کے مصداق نہیں ہو سکتے ۔ جواب: اول ان میں سے کسی نے اس پیشین گوئی کو اپنے حق میں ثابت نہیں کر دکھایا۔ دوم: پولوس نامہ رومیاں ۔ ۹ باب ۔ آیت ۱۳ میں فرماتا ہے خداوند نے یعقوب سے محبت کی اور عیسو سے عداوت ۔ سوم : عیسو نے مسور کی دال پر اپنی نبوت پیچ دی۔ پیدائش ۲۵ باب ۳۲-۳۳ چهارم: یعقوب نے فریب سے نبوت کا ورثہ اس سے لے لیا۔ پیدائش ۲۷ باب ۳۵ بنوا بنائے قطورا زندگی ہی میں خارج ہو چکے تھے۔ مرتے وقت صرف اسمعیل اور اسحق پاس