حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 538
حقائق الفرقان ۵۳۸ سُورَةُ النَّاسِ تو انسان کی جاں بری کیونکر ممکن ہے۔صاحبان! انسان کی اس حالت پر نظر کرو جو اس کو نطفگی کی حالت میں لاحق ہیں۔اور ہر انسان کے اس کمال و استواری پر نظر کر جاؤ جس میں وہ اپنے دائرہ کمال کی تعمیل کرتا ہے اور پھر انصاف سے دیکھو کہ یہ تمام سامان کمالات جسمانیہ اپنے اصول و فروع سے کس نے عطا فرمائے۔تو آپ یقین فرمائیں گے کہ ایک رب الناس جس نے اس کو ایک طرف جذب مواد طیبہ کی طاقتیں عطا فرمائیں۔دوسری طرف مواد طیبہ کا بے انت خزانہ مہیا فرما دیا۔چونکہ وہ ذات پاک طیب اور ہر ایک خبث ونجاست سے منزہ ہے۔انسان کے جسمانی حالات کی ترقی کے لئے بھی اس نے کیسے کیسے اسباب طیبہ مہیا کر دیئے ہیں۔جب انسان اپنی جسمانی حالت کی ایک حد تکمیل کر لیتا ہے تو اس کی عمدہ پرورش کے بعد انسان کے اخلاق کا نشو و نما ہوتا ہے۔کبھی اس کو انواع واقسام کی خواہشیں پیدا ہوتی ہیں۔اس لئے رنگارنگ خوراک کے لئے قسم قسم کے غلہ، پھل، پانی ، عرق ، شیر بینیاں، ترشیاں جمع کرتا ہے۔پہننے کے واسطے اور ایسا ہی گرمی، سردی ، ہوا ، روشنی، بارش اور گرد و غبار سے بچنے کے لئے ایسا ہی محنت و مزدوری عیش و عشرت ، جنگ وغیرہ وغیرہ حالات مختلفہ کے لئے اسے مختلف اسباب مہیا کرنے پڑتے ہیں۔اپنے آرام کی خاطر اس کو مکانات بنانے پڑتے ہیں، جن میں انسان کو گرمی سردی ، غبار، بارش کا لحاظ کرنا پڑتا ہے۔اپنی ضروریات کے واسطے مختلف قسم کی چیزیں رکھنا چاہتا ہے۔قوائے شہوانیہ اور بقائے نسل کے خیال سے اس کو اپنے جوڑہ کی ضرورت پیش آتی ہے۔قوائے غضبیہ کو بھی اسے جوش میں لانا پڑتا ہے۔جب دیکھتا ہے کہ اس کے اغراض اور مطالب ضرور یہ اور صحیحہ میں کوئی روک ڈالتا ہے انسان اپنے مطالب جسمانیہ اور اخلاقیہ میں گا ہے قوت استقلال و ہمت بلند کے ساتھ شجاعت و بہادری سے بھی کام لینا پڑتا ہے۔اور جب اس کے بنی نوع سے کوئی اس کا مقابلہ کرتا ہے اور اس کے اغراض و مطالب اور شہوات و بلند حوصلگی و کامیابی میں حملہ کرتا ہے تو اس کو بادشاہوں اور حکام کی احتیاج پڑتی ہے اور کبھی حکام میں سے اس کا محتاج الیہ